اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 308 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 308

308 سقوط بغداد پر قادیان میں جشن؟ حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔اگلا سوال یہ کیا گیا کہ پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر جب سقوط بغداد ہوا تو قادیان میں اس پر جشن منایا گیا۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب حضور نے اخبار حق“ لاہور 23 نومبر 1918ء حاضرین کو دکھایا۔اخبار ”حق“۔یہی رسالہ تھا جس کا عکس میں آپ کے سامنے پیش کیا۔خاکسا رہی بائیس تئیس کتابیں اپنی لے گیا تھا۔ہزار کتابیں تو وہ تھیں جو خلافت لائبریری سے میں لے گیا تھا۔کچھ کتابیں حضرت مولانا ابو العطاء صاحب نے عطا فرمائیں۔اور حضرت مولا نا عبدالمالک صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کا سیٹ دیا۔خاکسار جولٹریچر لے گیا تھا، ان میں یہ اخبار ”حق“ بھی ہے۔اصل میرے پاس محفوظ ہے۔اخبار ” حق‘لا ہور 23 نومبر 1918ءحضور نے اپنے دستِ مبارک میں پکڑ کر جو کمیٹی کے ممبر تھے پیپلز پارٹی کے اور اپوزیشن کے، ان کو دکھایا۔اس میں سیکرٹری خلافت کمیٹی سرشیخ عبد القادر صاحب کا جو مدیر مخزن تھے اور جنہوں نے دیباچہ لکھا ہے بانگِ درا‘ کا۔یہ سیکرٹری تھے خلافت کمیٹی کے۔انہوں نے اس میں یہ لکھا ہے۔وو یہ پہلا صفحہ ہے اس کا اور دوسرا صفحہ دوسرے کالم میں صلح اور فتح کا عنوان ہے اور لکھا ہے از شیخ عبدالقادر صاحب بی اے۔بیرسٹر آف لاء۔آغا ز ان الفاظ سے ہوتا ہے۔ماہ نومبر کی بارہویں تاریخ جو خوشیاں سارے ملک میں منائی گئی ہیں ، وہ مدتوں تک یادر ہیں گی۔اور اس ایک دن کی خوشی نے لڑائی کے زمانے کی بہت سی کلفتوں کو دھوڈالا۔سرکاری طور پر جو تار افسران اضلاع کے نام صلح کی خوشخبری لے کر پہنچا اس کے الفاظ یہ تھے کہ صلح مع فتح کی خوشی منائی جائے۔اخبارات نے بھی مردہ صلح چھاپتے ہوئے فتح کا عنوان بڑے جلی حروف میں دیا۔66 مقصد یہ ہے کہ جنگ جب ختم ہوگئی تو سارے ہندوستان میں 12 نومبر کی تاریخ تھی 1918ء کی۔تمام ہندوستان کے باشندوں نے جن میں مسلمان تھے۔جن میں ہندو بھی شامل تھے۔