اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 309 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 309

309 جن میں سکھ بھی شامل تھے۔جن میں پارسی بھی شامل تھے۔جن میں آریہ سما جی بھی شامل تھے۔غرضیکہ چالیس کروڑ ہندوستان کے باشندے جن میں مسلمان بھی تھے، انہوں نے چراغاں کیا اس موقع پر۔حضور نے یہ نوٹ پڑھنے کے بعد جوفرمایا ، وہ میں اب بتا تا ہوں۔فرمایا:۔دسقوط بغداد پر جشن نہیں ہوا۔پہلی جنگِ عظیم کے خاتمے پر ہوا۔اور یہ جشن ہندوستان کے تمام باشندوں نے منایا۔جن میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل تھے۔ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پُر جوش طور پر چراغاں کیا گیا۔اس سلسلہ میں قادیان کی چھوٹی سی بستی میں احمدیوں نے بھی چند دیے جلا دیے مگر آپ احباب کو ہندوستان کے لاکھوں چراغ تو بھول گئے۔ہاں اگر یا در ہے تو احمدیوں کے چند دیئے یادر ہے۔ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا یہ شعر میرے تاثرات ہیں۔مولانا ظفر انصاری صاحب کی جرح ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب :۔مولانا صاحب ! اب ہم سوالات کے دور کے آخری دن پر آگئے ہیں جو کہ 24 را گست 1974ء کو ہوا۔اور اس دن کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ اس دن بجائے اس کے کہ سوالات اٹارنی جنرل یحی بختیار صاحب کرتے ، چیئر مین کی اجازت سے مولوی ظفر احمد انصاری صاحب نے کئے۔اس کی بیک گراؤنڈ (Background) کیا تھی؟ کیوں یہ تبدیلی واقع ہوئی؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔خاکسار اس سلسلہ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہے کہ اس روز خصوصی کمیٹی کے چیئر مین صاحب نے خلاف دستور اور حکومت کے اعلامیہ کے خلاف محترم اٹارنی جنرل صاحب کی بجائے رکن اسمبلی ظفر انصاری صاحب کو سوالات پیش کرنے کی اجازت دے دی۔