اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 292
292 کر اپنے فضل سے تو میرے ہمسفر پیدا کہ اس دیار میں اے جانِ من غریب ہوں میں یہ حالت تھی اُس وقت۔الہی یہ بڑے بڑے اکابر تھے اس وقت چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور پھر دعا کس طرح کرتے ہیں۔میں تیرا در چھوڑ کر جاؤں کہاں چین دل آرام جاں پاؤں کہاں یاں نہ گر روؤں کہاں روؤں بتا یاں نہ چلاؤں تو چلاؤں کہاں جاں تو تیرے در پہ قرباں ہو گئی سر کو پھر میں اور ٹکراؤں کہاں یہ آواز ہے۔ایک خدا کا عاشق ، آستانہ الوہیت پر اپنی روح کو گداز کرنے کے بعد عرض کرتا ہے۔إِيَّاكَ نَسْتَعِيْن۔اس کے بعد حضور فرماتے ہیں، تشریح کرتے ہیں کہ اس میں آگے پھر جو اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہے اور صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمُ ہے۔قرآن نے آگے خود اس کی تشریح کی ہے۔سورۃ النساء میں :- وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولئِكَ رَفِيقًا (النساء : 51) فرمایا جو شخص اللہ اور اس رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا یا وہ نبیوں میں شامل ہوگا یا صدیقوں میں شامل ہوگا یا شہیدوں میں شامل ہوگا یا صالحین میں شامل ہوگا۔مجھے یاد ہے ایک عالم دین آئے۔کہنے لگے جی نبوت کی بات بالکل نہ کریں۔باقی معاملات جو ہیں اس بارے میں مذاکرات ہو سکتے ہیں۔میں نے کہا آپ میرے مہمان ہیں۔میں آپ کا خیر مقدم کرتا ہوں۔میں نبوت کی بات نہیں کرتا۔یہاں چار درجے ہیں۔نبوت کی بات نہیں ہوئی۔یہ تو معاہدہ ہو چکا ہے آپ سے۔صدیق بھی آسکتے ہیں کہ نہیں آ سکتے ؟ صِرَاطَ الَّذِينَ