اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 293 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 293

293 اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں پہلا درجہ نبوت کا ہے وہ تو آپ فرماتے ہیں کہ اس کا ذکر ہی نہ کرو۔ایک بم کا گولہ ہے۔ایک مصیبت ہے۔نبوت کا تصور کرنا ہی قیامت کبری سے کم نہیں۔میں بھی چھوڑتا ہوں۔لیکن صدیق آسکتے ہیں کہ نہیں آسکتے؟ کہنے لگے آسکتے ہیں۔میں نے کہا۔سوچ لیں۔صدیقیت کا دروازہ بھی بند نہ کرنا پڑے۔کہنے لگے جی آ سکتے ہیں۔امت کا اتفاق ہے۔میں نے کہا اب آپ سے میں پوچھتا ہوں۔صدیقیت کی تعریف کیا ہے؟ بے ساختہ ان کی زبان سے یہ جواب نکلا اور ٹھیک نکلا۔انہوں نے کہا کہ صدیق وہ ہے جو خدا کے نبی کا اول نمبر پر چہرہ دیکھتا ہے اور اول نمبر پر ایمان لے آتا ہے۔یہ ان کا جواب بالکل ٹھیک تھا۔تمام چودہ صدیوں کے آئمہ محدثین، مفسرین، متکلمین ، مؤرخین ، دانشور ، سپین کے ہوں ، بغداد کے ہوں ،عرب کے ہوں ، ہندوستان کے ہوں ، ان کا متفقہ فیصلہ ہے کہ صدیق کی یہی تعریف ہے اور یہ بھی فیصلہ ہے کہ حضرت علی صدیق نہیں تھے ، حضرت ابو بکر صدیق تھے۔میں نے کہا اب میں آپ سے پوچھتا ہوں۔علامہ رازی نے اس آیت کی تشریح میں اپنی تفسیر میں لکھا ہے۔اسی کو خواجہ میر درد کے ملفوظات میں آپ موجود پائیں گے۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتابوں میں یہی تشریح کی ہے۔حضرت داتا گنج بخش کی ”کشف الحجوب میں یہی تفسیر آتی ہے۔میں نے ان سے یہ پوچھا کہ آپ نے Definition یہ کی ہے کہ صدیق وہ ہے جو خدا کے نبی کا چہرہ دیکھتے ہی اول نمبر پہ ایمان لاتا ہے۔اب آپ مجھے یہ فرما ئیں کہ اگر کوئی نبی ہی نہیں آئے گا تو صدیق کہاں سے پیدا ہوگا؟ زار و قطار رونے لگا۔شریف انسان تھا۔ہزاروں شریف ہیں علماء میں سے بھی۔ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار آخر میں ، میں یہ بتاتا ہوں حضور نے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں بتایا کہ یہ زبردست پیشگوئی ہے جو آج ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔میں اس نکتہ کی طرف سامعین کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں اپنے عزیزوں کو۔(اب وقت نہیں ہے کہ میں لفظ لفظ پڑھوں) حضور نے فرمایا کہ اس میں دعا سکھائی گئی ہے اور چودہ سو سال سے دنیا کے تمام مسلمان دعا کر رہے ہیں کہ اے خدا ہمیں مغضوب نہ بنا۔کون تھے مغضوب؟ مغضوب وہ تھے جن میں چودہویں صدی میں موسیٰ علیہ السلام کے بعد خدا نے مسیح علیہ السلام