اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 291 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 291

291 ہر آیت ہر ہزار سال کی طرف اشارہ کرتی ہے آخری آیت میں مغضوب اور ضالین کا ذکر ہے وہ اس زمانے کے متعلق ہے۔پھر فرمایا کہ الحمد للہ کا لفظ ہے اس میں الحمد سے قرآن مجید اس لئے شروع کیا گیا ہے تا کہ اس لفظ کا روٹ (Root) جو ہے وہ حمد ہے۔اس کے پیش کرنے کے ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کے اسم مبارک محمد کی طرف بھی اشارہ ہو جائے اور احمد کی طرف بھی اشارہ ہو جائے اور اس سے یہ ثابت ہو کہ خدا کے مظہر اتم محمد مصطفی واحد مجتبی ملے ہیں۔پھر حضور نے فرمایا کہ اس میں بنیادی صفات رحمن، رحیم، ملک یوم الدین کو پیش کیا گیا ہے اور اگر ساری صفات الہیہ کو بیان کیا جائے جن کا تذکرہ قرآن شریف میں موجود ہے، ننانوے عام طور پر بتائی جاتی ہیں ورنہ حدیثوں سے تو ثابت ہے کہ بے شمار صفات ہیں۔مگر ان ننانوے صفات کی بنیاد دراصل ان چاروں پر ہے۔اس کے بعد دعا سکھائی گئی ہے۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة : 5) جب کوئی شخص ، صاحب عرفان خدا کے آستانہ پر گرتا ہے تو پہلے وہ چاروں صفات کو مستحضر کرتا ہے۔خدا کی ایک زندہ تصویر اس کے دل کے اوپر نقش ہو جاتی ہے۔وہ کہتا ہے کہ اے خدا جو رحمن بھی ہے، جو رحیم بھی ہے، جو مالک یوم الدین بھی ہے اور جو اللہ ہونے کے لحاظ سے تمام صفات سے متصف ہے اور کوئی عیب نہیں جو اس کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہو۔کیونکہ اللہ کا لفظ اسم ذات ہے اور سوائے قرآن کے یہ نام کسی اور کتاب میں موجود نہیں ہے۔اللہ کے معنی ہیں کہ تمام صفات کا جامع اور ہر قسم کے عیوب سے پاک۔یہ تصور جب انسان قائم کر کے پھر خدا کے آستانے پر پہنچتا ہے۔اور کہتا ہے الہی اس تمام کائنات کا مالک بھی تو ہے۔رب بھی تو ہے۔رحمانیت کے چشمے بھی تیرے ہاتھ میں ہیں اور رحیمیت کے بھی ، اس لئے میں تیری درگاہ میں آیا ہوں۔ایساكَ نَسْتَعِينُ تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں۔حضرت مصلح موعودؓ کے کیسے دردناک شعر ہیں وہ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہی کی عکاسی کر رہے ہیں۔در نمین دیکھیں یا کلام محمود دیکھیں یا کلام طاہر دیکھیں یا در عدن دیکھیں تو قرآن ہی کی تفسیر ہے اگر کسی انسان کی بصیرت کی نگاہ ہو۔اِيَّاكَ نَسْتَعِین کا میں عرض کر رہا تھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے خلافت کے ابتدائی دور میں جبکہ پیغامی جن کو میں لیکھر امی کہتا ہوں۔چند آنے کے پیسے چھوڑ کے قادیان سے چلے گئے تھے۔اس زمانے میں حضرت مصلح موعودؓ نے ایک طرف تو یہ دعا کی درد کے ساتھ ، سوز کے ساتھ، تضرع کے ساتھ۔