اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 252
252 نہیں پائی تھی مگر ان کی زندگی اور زندگی کے کارناموں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خاص فطرت لے کر پیدا ہوئے تھے۔جو ہر کس و ناکس کو نصیب نہیں ہو سکتی۔انہوں نے اپنے مطالعہ اور فطرت سلیم کی مدد سے مذہبی لٹریچر پر کافی عبور حاصل کیا۔1867 ء کے قریب جبکہ ان کی عمر پینتیس چھتیں سال کی تھی ، ہم ان کو غیر معمولی مذہبی جوش میں سرشار پاتے ہیں۔وہ ایک سچے اور پاکباز مسلمان کی طرح زندگی بسر کرتا ہے۔اس کا دل دنیوی کششوں سے غیر متاثر ہے۔وہ خلوت میں انجمن اور انجمن میں خلوت کا لطف اٹھانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ہم اسے بے چین پاتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی ایسی کھوئی ہوئی چیز کی تلاش میں ہے جس کا پتہ فانی دنیا میں نہیں ملتا۔اسلام اپنے گہرے رنگ کے ساتھ اس پر چھایا ہوا ہے۔کبھی وہ آریوں سے مباحثے کرتا ہے۔کبھی حمایت اور حمیت اسلام میں وہ بسیط کتابیں لکھتا ہے۔1886ء میں بمقام ہوشیار پور آریوں سے جو مباحثات انہوں نے کئے تھے ، ان کا لطف اب تک دلوں سے محو نہیں ہوا۔غیر مذاہب کی تردید اور اسلام کی حمایت ( یہ دعوت اسلام ہے۔ناقل ) غیر مذاہب کی تردید اور اسلام کی حمایت میں جو کتابیں انہوں نے تصنیف کی تھیں ، ان کے مطالعہ سے جو وجد پیدا ہوا وہ اب تک نہیں اترا۔ان کی ایک کتاب براہین احمدیہ نے غیر مسلموں کو مرعوب کر دیا۔اور اسلامیوں کے دل بڑھا دئیے۔“ ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب :۔اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد لکھا گیا جبکہ حضور کی اکثر کتابیں چھپ چکی تھیں اور حضور کے سارے عقائد دنیا کے سامنے آچکے تھے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔مولا نا ہم عصر تھے ، قادیان میں بھی گئے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھی پہنچے۔کہتے ہیں مولانا کہ:۔ان کی ایک کتاب براہین احمدیہ نے غیر مسلموں کو مرعوب کر دیا اور اسلامیوں کے دل بڑھا دیئے اور مذہب کی پیاری تصویر کو ان آلائشوں اور