اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 253 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 253

253 گردو غبار سے صاف کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا جو مجاہیل کی تو ہم پرستیوں اور فطری کمزوریوں نے چڑھا دیے تھے۔غرضیکہ اس تصنیف نے کم از کم ہندوستان کی مذہبی دنیا میں ایک گونج پیدا کر دی۔( کتنا ز بر دست خراج تحسین ہے۔اور یہ ایک شاہد ناطق کی حیثیت میں کیونکہ ان کے زمانے میں یہ ساری بات ہوئی ہے۔آج کا ملا کیا جان سکتا ہے؟۔ناقل ) اس تصنیف نے کم از کم ہندوستان کی مذہبی دنیا میں ایک گونج پیدا کر دی جس کی صدائے بازگشت ہمارے کانوں میں اب تک آ رہی ہے۔“ 66 فرماتے ہیں:۔و گو بعض بزرگانِ اسلام اب براہین احمدیہ کے بُرا ہونے کا فیصلہ دے دیں محض اس وجہ سے کہ اس میں مرزا صاحب نے اپنی نسبت بعض پیشگوئیاں کی تھیں اور بطور حفظ تقدم اپنے آئندہ دعاوی کے متعلق بہت کچھ مصالحہ فراہم کر لیا تھا۔( یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔ناقل ) لیکن اس کے بہترین فیصلہ کا وقت 1880ء تھا جبکہ وہ کتاب شائع ہوئی۔مگر اُس وقت مسلمان بالا تفاق مرزا صاحب کے حق میں فیصلہ دے چکے تھے یہ فیصلہ تھا مسلمانان ہند کا۔آگے لکھتے ہیں۔ایک چھوٹا سا دھبہ بھی آپ کے دامن پر نظر نہیں آتا۔یہی رسول پاک کے لئے معیار تھا کہ آپ نے فرمایافَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمَرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ۔(يونس: 170) آگے مولانا آزاد نے لکھا:۔کریکٹر کے لحاظ سے ہمیں مرزا صاحب کے دامن پر سیاہی کا ایک چھوٹا سا دھبہ بھی نظر نہیں آتا۔“ اور وہ ملاں جو مولانا آزاد کی جوتیوں کا غلام ہے، سوائے گالیوں کے اس کے پاس موجود ہی کچھ نہیں ہے۔لیکن مولانا آزاد فرماتے ہیں کہ مرزا صاحب ایک مقدس انسان تھے۔کوئی داغ ان کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔