اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 251 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 251

251 مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔دو ٹوک جواب کہ اسلام ہی مراد ہے اس سے، اور کوئی دعوت مراد نہیں ہے۔اب میں اس سلسلہ میں، بعد میں جو میں نے تحقیقات کیں حضرت خلیفہ المسح الثالث" کے ارشاد پر، اس کی صرف ایک جھلک آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔1892ء میں جبکہ حضرت مسیح موعود پہلی دفعہ لاہور تشریف لائے تو بڑا ہنگامہ تھا۔پیسہ اخبار کے ایڈیٹر محبوب عالم صاحب نے لکھا ہے کہ مرزا صاحب نے تو اسلام کی تبلیغ کی ہے۔ان کی کتابیں اس بات پر شاہد ناطق ہیں تو بجائے اس کے کہ ہندو اور دوسرے جو غیر مذاہب والے ہیں، ایجی ٹیشن کرتے ، علماء لوگ جن کو نسبت ہے اسلام کے ساتھ۔انہوں نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی ہے۔مسلمانوں کو مرزا صاحب سے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ وہ اسلام کے علمبر دار ہیں۔اگر خطرہ ہوسکتا ہے تو غیر مسلم کو ہوسکتا ہے۔یہ پیسہ اخبار نے لکھا۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔اس کا حوالہ بتائیں گے آپ۔؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہ پیسہ اخبار لاہور کا اخبار ہے 22 فروری 1892ء۔اس کا اداریہ ہے۔عنوان میں لکھتے ہیں کہ ” جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی لاہور میں پھر یہ تمیں مئی 1908ء کا وکیل ہے جس وقت کہ مولانا ابوالکلام آزاد صاحب ادارت کر رہے تھے۔مولانا نے خود لکھا ہے کہ میں اس وقت تک اس اخبار کا ایڈیٹر رہا جب تک کہ میرے والد فوت نہیں ہوئے اور وہ اگست میں فوت ہوئے ہیں اور یہ 30 مئی 1908ء کا آپ کا اداریہ ہے۔اس سے پہلے کا بھی ہے۔لیکن میں اصل آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔اس میں فرماتے ہیں۔(اگر چہ لمبی عبارت ہے اس میں سے عرض کر رہا ہوں۔) ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب: یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد لکھا گیا ؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔حضور علیہ السلام کی وفات پر مولانا ابوالکلام آزاد صاحب نے جو دوسرا آرٹیکل لکھا تھا اس کی عبارت میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔اصل میرے پاس محفوظ ہے۔اس کا عنوان ہے " مرزا غلام احمد مرحوم “ لکھتے ہیں کہ اگر چہ مرزا صاحب نے علوم مروجہ اور دینیات کی باقاعدہ تعلیم