اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 234
234 کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کا ادنی ترین غلام ہوں اور قرآن کا خادم ہوں۔یا تو تم اس عربی رسالے کا عربی میں جواب دو اور اگر نہ جواب دو اور نہ گالیوں کو چھوڑو، رسول عربی ﷺ کے خلاف بھی تم بکواس کر رہے ہو تو پھر خدا کی ہزار لعنت تم پر ہوگی۔یہ اصل بات تھی۔میں نے وہ سارا حوالہ اور اصل کتاب دکھائی۔میں نے کہا کہ ہم لوگ تو عاشق رسول ہیں۔مگر دیکھیں ان حضرات کو ”نجم الہدی میں جو الفاظ ہیں خنازیر کے ، وہ بھی اپنی طرف منسوب کرتے ہیں اور یہ لعنت کے الفاظ بھی اپنے اوپر چسپاں کر کے اشتعال دلا رہے ہیں تو اس سے ثابت ہے کہ یہ ایجنٹ ہیں دراصل عیسائیوں کے۔تکلیف تو پادریوں کو ہونی چاہئے تھی۔مگر مجسم شورش یہ لوگ بنے ہوئے ہیں بد خصال اور آنحضرت ﷺ کے دشمنوں اور جو شاتم رسول ہیں ، ان کی غیرت ان کے دل میں آگئی ہے۔صاف ثابت ہے کہ یہ ایجنٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔لیکن یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ مسیح موعود علیہ السلام جیسے عاشق رسول ان بد قماش لوگوں کو پھولوں کے ہار پہناتے۔یہ احراری ہی پہنا سکتے ہیں۔اتمام حجت کا تصور ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب : اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت خلیفہ امسح الثالٹ رحم اللہ سے یہ سوال کیا تھا کہ اتمام حجت کا تصور کیا ہے؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔حضور نے ارشا د فر مایا قرآن کریم میں بیان ہے۔وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا ( سورة النمل :15) ترجمہ یہ ہے: انہوں نے اصرار سے ظلم اور تکبر کرتے ہوئے ان نشانوں کا انکار کیا حالانکہ ان کے دل اس پر یقین لاچکے تھے۔یعنی وہ دل سے قائل ہو چکے تھے کہ یہ واقعی خدا کا پیغمبر ہے۔اسی مرحلہ کو اتمام حجت کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔جیسا کہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر خدا بھی آکے کہہ دے کہ مرزا صاحب بچے ہیں تو بھی ہم مرزا صاحب کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔یہاں پر حضور" کا جواب ختم ہو گیا تھا؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔جی یہاں پر ختم ہوا۔اس پر یہ عاجز صرف اتنا عرض کرے