اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 233 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 233

233 کہ جس طرح بھی ہو سکے ، جانے سے پہلے ہمیں لاؤڈ سپیکر کیا جازت لے لینی چاہئے۔ہم لوگ اگلے دن گئے اور مجسٹریٹ صاحب جو موجود تھے، بہت شریف ، کہنے لگے کہ اجازت کی ضرورت ہی نہیں ہے۔دفعہ 144 تو نافذ نہیں ہے۔کسی صوبے میں ہی نہیں اور ملتان کے ضلع کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔تو میں نے پھر یہ عرض کی کہ اس کے باوجود آپ کا احسان عظیم ہو گا اگر ہمیں اجازت دے دیں۔یہ قانون کی خلاف ورزی تو نہیں ہو گی لیکن یہ ہمارے لئے تسکین کا باعث ہوگا ، با برکت بات ہوگی۔یہ بات ان کو بہت پسند آئی ہمیں اجازت دے دی۔محترم چوہدری عبدالرحمن صاحب امیر جماعت احمدیہ ملتان نے چلنے سے پہلے مجھے دو جوڑے کپڑوں کے دیئے جو راتوں رات انہوں نے بنوائے۔کیونکہ انہیں پتہ چل گیا تھا کہ میں بس تنہا اسی طرح پہنچا ہوں۔کوئی چیز ہی نہیں تھی میرے پاس۔اتنا احساس تھا میں وہاں جب یہ جلسہ شروع ہوا اس وقت مرحوم شیخ محمد اسلم صاحب ( یہ ہمارے جو شیخ محمد نعیم صاحب مربی سلسلہ عالیہ احمد یہ ہیں، ان کے والد تھے۔فرشتہ خصلت بزرگ تھے۔ان کی صدارت میں جلسہ شروع ہوا اور ابھی تلاوت ختم نہیں ہوئی تھی کہ بڑے بڑے داڑھیوں والے علماء کا ایک ہجوم سامنے آ گیا اور اس کے ساتھ انسپکٹر پولیس اور دوسرے سپاہی بھی ساتھ تھے۔جاتے ہی انہوں نے شیخ محمد اسلم صاحب کو بلایا۔وہ اٹھ کر گئے۔کہنے لگے جی کہ آپ کوکس نے اجازت دی ہے؟ آپ لاؤڈ سپیکر نہیں لگا سکتے۔بڑے فریس آدمی تھے۔کہنے لگے کہ وہی قانون جو احراری علماء کے لئے ہے وہی ہمارے لئے ہے۔ہم بھی پاکستان کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے کون سی اجازت لی ہے؟ کہنے لگے نہیں تم اقلیت میں ہو، تمہیں اجازت لینی چاہئے تھی۔اسی وقت انہوں نے کہا کہ جناب ہم اجازت لے کے آئے ہیں۔بس یہ کہنا تھا کہ ان کے اوسان خطا ہو گئے۔پھر وہ فوراً چلے گئے۔اس کے دوران میں نے اس سوال کو بھی لیا اور بھی بہت سی باتیں ہیں مگر وہ اپنے وقت پر میں بیان کروں گا کسی اور موقعہ پر۔غیر احمد یوں نے یہ حوالہ بھی پیش کیا کہ مسلمانو ! مرزا صاحب نے ہزار لعنت تم پر بھیجی ہے۔حالانکہ دنیا پور کو تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام جانتے نہیں تھے اور یہاں پر تشریف لائے نہ کسی کو خطاب کر سکتے تھے اور نہ کیا تھا۔تو وہ پادریوں کے نام تھا اور کتاب نور الحق میں لکھا ہے کہ پادری عماد الدین کا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن مجید کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔میں عربی زبان میں قرآن سے بڑھ کر لکھ سکتا ہوں۔تو حضور نے عربی میں رسالہ لکھا ”نورالحق اور فرمایا