اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 200 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 200

200 تحقیق کے بعد میرے سامنے آئی۔وہ یہ ہے۔مولانامحمد علی جو ہر صاحب کا ایک مشہور شعر ہے۔قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے ہر کربلا کے بعد اسلام زندہ ہوتا ہے ہر اب میں پوچھتا ہوں کہ یہ جو دوسرا مصرعہ ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد“ کر بلا تو ایک ہی ہے جو عراق میں ہے۔یہ ہر کا لفظ بتاتا ہے کہ یہ تشبیہ ہے دراصل۔استعارہ ہے، یہ مجاز اور کنایہ ہے۔تو استعارہ میں مصیبتوں کو اور دکھوں کو کر بلا کہا جاتا ہے۔اور اس میں مبتلا ہونے والے کو حسین سے تشبیہ دی جاتی ہے۔یہی تشبیہ اس میں ہے تو جب ہر کر بلا کے لحاظ سے بہت سے کر بلا ہیں تو پھر حسین بھی بہت سے ماننے پڑیں گے۔یہ دیکھیں شعبہ اشاعت امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان گورنمنٹ ڈگری کالج ڈیرہ غازی خان کا یہ رسالہ ہے۔لمحہ فکریہ کے عنوان پر ہے۔اور اس میں لکھا ہے ” حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا قول كل يوم عاشوراء وكل ارض کربلا ہر دن ہمارے لئے دس محرم کی تاریخ ہے اور ہر ایک زمین ہمارے لئے کربلا ہے۔اب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ہر جگہ کو کر بلا قرار دیا ہے کیونکہ مصائب میں مبتلا تھے۔اور ہر دن کو یوم عاشوراء قرار دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی یہی فرماتے ہیں۔آپ کا شعر یہ ہے۔سیر کر بلائے صد حسین است، در ہر آنم گریبانم حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری تو فرمایا کرتے تھے کہ اس سے بہتر کوئی تشبیہ ہی نہیں ہوسکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ فرماتے ہیں کہ میں جو مد عربی ﷺ کے دین کی طرف سے دفاع کر رہا ہوں، اسلام کے دشمن جن میں برہمو سماج شامل ہیں، سناتنی شامل ہیں، دیو مارگی شامل ہیں، عیسائی شامل ہیں، ہندو شامل ہیں، سکھ شامل ہیں، بدھسٹ شامل ہیں۔ان تمام کے تمام نے میرے لئے ہر جگہ کر بلا بنائی ہوئی ہے۔ہندوستان کا چپہ چپہ میرے لئے کربلا بن گیا ہے۔ہزاروں لاکھوں کر بلا ہوئے یا نہ ہوئے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے مطابق! تو فرماتے