اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 199
199 کے سامنے جماعت احمدیہ کے عظیم الشان علم کلام اور مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے مسلک کی حقانیت کا دن چڑھانے کے لئے نمونے پیش کرنا چاہتے تھے۔اس لئے حضور نے بعض جوابات تفصیل سے دیئے اور بعض جواب اشارہ دیئے اور خود وہ اشارہ بھی ان کے لئے دراصل کافی تھا۔حضور نے اس موقع پر علامہ نووی جو کہ برصغیر کے بہت ہی بلند پایہ شاعر تسلیم کئے جاتے ہیں ان کے دیوان کا سب سے پہلا شعر پڑھا۔یہ شعر جو حضور نے پڑھا ہے وہ عکس تھا جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے انڈیا آفس سے میسر آیا تھا۔اس وقت ہمارے محمد اکرم خان غوری صاحب مرحوم جو کہ یروبی افریقہ میں رہے۔بہت ہی عظیم انسان تھے۔خدا نے ان کو خلافت ثالثہ میں الہاما بتا دیا تھا کہ حضرت خلیفة امسیح الرابع خلیفہ بننے والے ہیں۔ربوہ میں رہے پھر دفتر میں کام کرتے رہے۔لندن میں گئے تو میں نے بعض چیزیں ان سے منگوائیں۔انگریزی میں میرے جتنے بھی مقالے مولانا بشیر احمد خان صاحب رفیق نے " مسلم ہیرلڈ' میں شائع کئے ہیں۔ان کا ترجمہ انہی کے قلم سے ہوا ہے۔اس شان کے انسان تھے کہ جب نیروبی میں تھے ، حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب اس وقت امیر جماعت تھے تو انہوں نے ان کی جازت سے حضور کی خدمت میں لکھا کہ حضور شبورہ اگر تشریف لائیں تو سارے اخراجات میں ادا کروں گا۔یہ عکس محمد اکرم خان صاحب غوری کے ذریعہ سے مجھے ملا ہے اور اس پر انڈیا آفس کی مہر بھی لگی ہوئی ہے۔اس قلمی نسخہ کا پہلا شعر یہ ہے۔(فارسی دیوان ہے ) ؎ حسین کشته در ہر گوشہ صحرائے من صد کربلا عشقم لب تشنہ سر تا پائے من علامہ نووی فرماتے ہیں کہ ” کر بلا عشقم میں عشق کا کربلا ہوں اور ”لب تشنہ سر تا پائے من “ اور سر سے لے کر پاؤں تک پیاسا ہوں، تشنہ ہوں۔’صد حسین کشتہ در ہر گوشہ صحرائے من“ اور میرے صحراء کے ہر گوشہ میں سوسوحسین مقتول اور شہید موجود ہیں۔تو تشبیہ دینے والوں نے تو یہاں تک کہا ہے۔یہ جواب تھا جو حضور نے دیا۔،اس سلسلہ میں ایک چھوٹی سی بات یہ عرض کروں جو حضور کے اس ارشاد کے مطابق