اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 201
201 ہیں بے شمار کر بلائیں میرے لئے بنائی گئی ہیں، اسلام کے دشمنوں کی طرف سے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا آئینہ کمالات اسلام میں فارسی کلام ہے۔اس میں فرماتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ کی راہ میں اگر میں لاکھوں بار بھی شہید کر دیا جاؤں تو میرے لئے بہت بڑی سعادت ہے۔تو یہی مضمون یہاں پر ہے۔فرمایا کہ اسلام کے دشمن مجھ پر ہرلمحہ حملہ کرتے ہیں گویا ان کی نگاہ میں ان کے مقابل پر ایک حسین نہیں بلکہ سوحسین نظر آتے ہیں۔یعنی سوعشاق محمد کی طاقت انہیں مجھ میں نظر آتی ہے۔اس واسطے وہ ایک دفعہ میرے لئے کر بلا نہیں بناتے ، سینکڑوں بار میرے لئے کربلا بناتے ہیں۔آپ دیکھیں کتنے مقدمے کئے گئے ہندوؤں کی طرف سے، عیسائیوں کی طرف سے اور ان میں ہندو شامل، اس میں مسلمان کہلانے والے شامل۔اس کربلا بنانے والوں میں کتنے یزیدی اکٹھے ہو گئے تھے۔تو فرماتے ہیں کہ مجھ پر حملہ کرنے والے اسلام کے دشمن ایک بار حملہ نہیں کرتے بلکہ سینکڑوں بار کرتے ہیں اس لئے کہ انہیں نظر آتا ہے کہ اسلام کا دفاع کرنے والا ایک حسین نہیں بلکہ سوحسین ہیں۔اس لئے سینکڑوں دفعہ ان پر حملہ کیا جا رہا ہے۔اور اس صلى الله سے بڑھ کر اسلام اور محمد عربی ﷺ اور امام حسین کی عظمت کا تصور نہیں ہوسکتا۔اب آخر میں میں خود مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں بتاتا ہوں کہ حضرت امام حسین کا مقام کیا ہے؟ آج تک حضرت امام حسین علیہ السلام کی منقبت اور شان اور جلالت مرتبت کے متعلق بہت لٹریچر شائع کیا گیا ہے۔شیعہ حضرات کی طرف سے سنی سکالرز کی طرف سے بھی لیکن جس بصیرت کی نگاہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت امام حسین کی شان بیان کی ہے، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آج تک کوئی متکلم، کوئی محدث ، کوئی عالم دین، فیج اعوج کے زمانے سے لے کر آج تک کا ، عرب و عجم میں ہو، شیعہ مسلک سنی مسلک، بریلوی خیالات، جماعت اسلامی کا ہو، جس بصیرت سے، سید نا حضرت حسین کا مقام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان کیا ہے آج تک کسی نے بیان نہیں کیا۔اب وہ الفاظ سنیں آپ۔تمام ہندوستان میں حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے یہ اشتہار شائع کیا۔یہ کتنے ظلم کی بات ہے کہ یہ شعر تو پڑھا جاتا ہے مگر جو مسیح موعود علیہ السلام کی نگاہ میں مقام حسین ہے اس کا اشارہ تک نہیں کیا جاتا۔صاف بات ہے یہ دراصل گستاخی حسین ہے کہ جو شخص حسین