اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 112
112 شاہ احمد نورانی کے مغالطہ آمیز بیان کا پوسٹ مارٹم ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب: مولانا ! 24 مئی 1983ء کے اخبار جنگ لاہور میں مولانا شاہ احمد صاحب نورانی کا یہ بیان چھپا تھا کہ 1974ء میں جب پاکستان کی قومی اسمبلی قادیانیوں کے سربراہ (حضرت) مرزا ناصر احمد پر جرح کر رہی تھی اور ( حضرت ) مرزا ناصر احمد نے اپنا اسی (80) صفحات پر مشتمل محضر نامہ پڑھنا شروع کیا تو کسی پرندے کا ایک پر جو غلاظت سے بھرا ہوا تھا، چھوٹے پنکھے سے نکل کر آہستہ آہستہ گھومتا ہوا سیدھا مرزا ناصر احمد کے محضر نامہ پر گر گیا اور لوگوں نے دیکھا کہ ناصر احمد کا محضر نامہ گندگی میں بھر گیا۔یہ واقعہ ہوایا نہیں ہوا؟ اس بارے میں آپ ایک چشم دید گواہ کی حیثیت سے اور ایک راوی کی حیثیت سے کچھ بتائیے کیونکہ آپ اُس وقت قومی اسمبلی ہال میں موجود تھے۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔جزاکم اللہ۔میں آپ کا بہت ممنون احسان ہوں۔یہ بہت ہی اہم سوال تھا جو اگر رہ جاتا تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ساری گفتگو تشنہ رہ جاتی۔جس وقت 24 مئی 1983 ء میں یہ خبریں شائع ہوئیں جنگ میں بھی اور دوسرے اخباروں میں بھی۔تو حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اُس وقت ربوہ میں ہی تھے۔جو نہی میں نے یہ خبر پڑھی تو اس پر ایک مختصر سا مضمون لکھا جسے پہلے ہفتہ وار لاہور نے 18 جون 1983 ء کو اور پھر اخبار الفضل نے 23 جون 1983ء کی اشاعت میں شائع کیا۔اُس کا عنوان تھا ” قومی اسمبلی ہال میں آنحضرت ﷺ کا زندہ معجزہ میں یہ مختصر مضمون جو اس لحاظ سے جامعیت کا حامل ہے، لفظاً لفظ سنانا چاہتا ہوں۔مضمون کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے۔دور حاضر میں یہ فخر اور امتیاز تحریک احمدیت کو ہی حاصل ہے کہ وہ 1889ء یعنی اپنی بنیاد کے آغاز سے دنیا بھر میں یہ پر شوکت منادی کر رہی ہے کہ آنحضرت علیہ سلسلہ انبیاء میں سے واحد زندہ نبی ہیں جن کے فیضان، کرامات ،خوارق ، نشانات اور معجزات کا حیرت انگیز سلسلہ قیامت تک کے لئے جاری ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔