اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 111
111 نور فراست عطا فرمائے کہ وہ حق وصداقت پر مبنی ان فیصلوں تک پہنچ جائیں جو قرآن وسنت کے تقاضوں کے عین مطابق ہوں اور پاکستان کی ترقی وسربلندی اور عروج و اقبال کے اس عظیم الشان مقام تک پہنچ جائے جس کا تصور جماعت احمدیہ کے دوسرے امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی نے 1947ء میں درج ذیل الفاظ میں پیش کیا تھا۔“ یہاں خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے الفاظ اس وقت موجود تھے۔اسمبلی میں بھی سنائے گئے تھے۔ہم لوگ قانون کی اتباع کرنے والے ہیں۔چونکہ یہ تاریخ کا معاملہ ہے اس وقت رضی اللہ عنہ کے الفاظ استعمال کئے گئے اور چھپ بھی گئے اور شائع بھی ہوئے۔گورنمنٹ کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔میں نے امیر المؤمنین کا لفظ بھی اسی Sense میں استعمال کیا تھا۔اس لئے کہ 1974ء کی بات ہو رہی ہے۔بتارہا ہوں مؤرخ کو، تاریخ کے اوراق دنیا کے سامنے پیش کرنے ہیں۔میرا فرض تھا کہ میں اس موقع پر امیر المؤمنین کا لفظ ہی استعمال کروں کیونکہ اس وقت حضرت مرزا ناصر احمد نہیں تھے امیرالمؤمنین خلیفہ اسیح الثالث کی حیثیت سے وہاں پر گئے تھے اور یہ تاریخ کا نوشتہ ہے۔لکھا ہوا موجود ہے۔دنیا کی کوئی طاقت اس کو مٹا نہیں سکتی۔اب حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جن الفاظ میں تصور پیش کیا ، وہ یہ تھے:۔” ہم نے عدل اور انصاف پر مبنی پاکستان کو اسلامک یونین کی پہلی سیڑھی بنانا ہے۔یہی اسلامستان ہے جو دنیا میں حقیقی امن قائم کرے گا اور ہر ایک کو اس کا حق دلائے گا۔جہاں روس اور امریکہ فیل ہوا ،صرف مکہ اور مدینہ ہی انشاء اللہ کامیاب ہوں گے۔و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔روزنامه الفضل 23 مارچ 1956ء) ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب: محضر نامہ کا یہ مختصر خلاصہ تھا اور بعض جگہ پر وہ تحریرات بھی پیش کی گئی ہیں۔حضور نے یہ محضر نامہ 22 اور 23 جولائی 1974ء کو قومی اسمبلی پاکستان کی خصوصی کمیٹی کے سامنے پڑھ کر سنایا۔