رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 136
بیت اللہ کو قبلہ مقرر کرنے سے کسی نبی کی پیش گوئی کی عظمت ظہور میں آئی ہے ج: - بیت اللہ کو قبلہ مقرر کرنے سے حضرت ابراہیم کی پیش گوئی کی عظمت دنیا پر ظاہر ہو گئی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان کے خلاف تھا کہ دعائے ابراہیمی کے مصداق ۱۲۵ حضرت محمد مصطفے اصلی اللہ علیہ وسلم پر تو دنیا ایمان لے آتی اور خانہ خدا کے ساتھ اس کا پختہ تعلق قائم نہ ہوتا۔پس اس نے حضرت ابراہیم کی پیش گوئی کی عظمت کے ظہور کے لیے بیت اللہ کو قبلہ مقرر کر کے تمام بنی نوع انسان کا اپنے گھر سے ایک دائمی مضبوط تعلق پیدا کر دیا اور سچے مومنوں کی روحانی عظمت ظاہر کر دی۔۔حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو کیا نصیحت فرمائی تھی ؟ ج: حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو یہ نصیحت کی تھی کہ تم اپنی خیر خواہی صرف اپنی ذات یا اپنی قوم تک محدود نہ رکھنا بلکہ اسے وسیع کرتے چلے جانا اور ساری دنیا کو اس میں شامل کرنا۔اپنے آپ کو صفت رب العالمین کا مظہر بنانا اور ساری دنیا کی بہتری کو مد نظر رکھتے ہوئے خدا کی اطاعت میں اپنی زندگی بسر کرنا اور جب تم پر موت آئے تو تمہارا اپنے رب سے سینچا اور مخلصانہ تعلق قائم ہو چکا ہو۔سورة البقره آیت نمبر ۱۳۳ میں اس وصیت کا ذکر آتا ہے۔وَوَصّى بِهَا إِبْرهِم بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يُبَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصطفى لَكُمُ الدِّينَ فَلا تَمُوتُنَّ إِلَّا أَنتُم مُّسْلِمُونَ ٥۔حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل اور حضرت اسحق" پر کن کلمات کو پڑھ کر پھونکا کرتے تھے ؟ ج: حدیث میں آتا ہے حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن اور حضرت حسین مہر یہ کلمات پڑھ کر پھونکا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ تمہارے باپ ابراہیم انہی کلمات سے اسماعیل اور اسحق کے لیے پناہ مانگا