رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 137
IFC کرتے تھے۔أعُوذُ بكلماتِ اللهِ التَّامَّةِ مِن كُلِّ شيطنٍ وَ هامة ومن كل عين لامة التجريد بخاری ) ترجمہ ایسے اللہ میں تیری صفات کا ملہ کے ذریعہ ہر شیطان اور ہر غیر دینے والے سے اور ہر طاعت کرنے والی شرانگیز آنکھ سے پناہ مانگتا ہوں۔تجرید بخاری ص۱۳۵ )۔حضرت ابراہیم کا اللہ تعالی سے یہ کہنا " تي اس بي كيف تحى السوقى " " اے میرے رب! مجھے بتا کہ تو مردے کس طرح زندہ کرتا ہے یا کسی وجہ سے تھا ؟ ج:۔حضرت ابراہیم کو اس بات پر کامل ایمان تھا کہ اللہ تعالیٰ احیاء موتی کر سکتا ہے مگر آپ اپنی قوم کے متعلق یہ تسلی کرنا چاہتے تھے کہ اس پر انہی فضل نازل ہوگا اور وہ بھی زندہ قوم بن جائے گی۔حضرت ابراہیم کو حقائق اشیاء کی حتیجوا در طلب کا طبعی ذوق تھا۔آپ حق الیقین حاصل کرنے کے لیے خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو اطمینان قلب کے لیے کیا جواب دیا ؟ ج : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ سے فرمایا ! تو چار ہندسے لے اور ان کو اپنے ساتھ سدھائے۔پھر ہر پہاڑ پر ان میں سے ایک ایک حصہ رکھ دے پھر انہیں بلا۔وہ تیری طرف تیزی کے ساتھ چلے آئیں گے اور جان سے کہ اللہ تعالی بڑا غالب اور حکمت والا ہے۔سورۃ البقرۃ آیت ۲۶۱ میں اس کا ذکر آتا ہے۔وَ إِذْ قَالَ ابْرُهم رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْي الموتى ، قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنُ ، قَالَ بَلى ولكن ليطمن قلبى قَالَ فَخُذُ ارْبَعَةٌ مِّنَ الطَّيْرِ نَصُرُهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَى كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا