رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 135 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 135

۱۳۵ کے بعد مسلمانوں کو دوستیں پڑھنے کا حکم ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے تعمیر کعبہ کے بعد اس جگہ شکرانہ کے طور پر نماز پڑھی تھی اور اس گفت کو جاری رکھنے کے لیے وہاں دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔س : اللہ تعالی کے اس ارشاد" واتخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى کہ تم مقام ابراہیم کو عبادت گاہ بناؤ ، میں کسی امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ؟ ج:- اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مسلمانوں کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کروائی گئی ہے کہ عبادت اور فرمانبرداری کے جس مقام پر حضرت ابراہیم مکھر سے تھے تم بھی اپنے آپ کو اسی مقام پر کھڑا کرنے کی کوشش کر در حضرت ابراہیم کا اصل مقام وہ متقام اخلاص اور مقام تقویٰ تھا جس پر کھڑے ہو کر انہوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا۔حضرت ابراہیم نے جس اخلاق ، جس محبت اور جس تقویٰ اور جس انابت الی اللہ سے نیکیوں میں حصہ لیا تھا تم بھی اسی مقام پر کھڑے ہو کہ نیکیوں میں حصہ اور تم بھی اسی طرح اللہ سے محبت کرو اور اسی رنگ میں دین کے لیے قربانیاں بجا لاؤ جس رنگ میں حضرت ابراہیم نے اللہ تعالی کے لیے قربانیاں کی تھیں تا کہ تمہیں بھی متقام ابراہیمی حاصل ہو جائے۔ا تغير كبير بقره ص۱۶) نیز اس خدائی ارشاد سے دنیا کے تمام مقامات اور شہروں میں ایسے تبلیغی مراکز قائم کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو خانہ کعبہ کی ظلیت میں اشاعت اسلام کے مراکز ہوں اور جہاں بیٹھ کر عبادت الہی کو قائم کیا جائے اور توحید کی اشاعت کی جائے۔و تغير كبير سورة بقره مت)