رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 108
ابرا ہیم آاگ میں ڈالے گئے تو کہا حسبنا الله ونعم الوکیل۔اور محمد نے یہ کلمہ اس وقت ادا کیا جب لوگوں نے آپ سے کہا کہ لوگ تمہارے لئے جمع ہو کر آئے ہیں، میں تم ان سے ڈرد۔پس ان صحابہ ض کا ایمان اس سے زیادہ ہوا اور کہا۔حسبنا الله ونعم الوکیل۔(بخاری)۔کیا اس واقعہ کے بعد حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا ؟ رح در جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو معجزانہ رنگ میں آگ سے بچا لیا تو پھر توحید کے عاشق ابراہیم نے آگ سے نجات پاتے ہی اپنی قوم کو سمجھا نا شروع کیا اور کہا کہ تم نے تو بتوں کو اس لیے خدا بنالیا ہے تا کہ وہ اس دنیا میں تمہارے درمیان محبت پیدا کرنے کا موجب ہو۔لیکن یہ یاد رکھو کہ یہ بہت اس دنیا تک ہی ہیں اگلے جہان میں یہ تمہیں کوئی فائدہ نہیں دیں گے۔بلکہ قیامت کے دن پجاری بتوں کے تعلق سے اور بیت پجاریوں کے تعلق سے انکار کر دیں گے اور ایک دوسرے پر لعنت ڈالیں اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہوگا اور ان میں سے کوئی بھی تمہاری مدد کو نہیں آئے گا۔کا ذکر ہے۔جیسا کہ سورۃ العنکبوت میں حضرت ابراہیم کی اس آخری تبلیغی کوشش وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذُ تُم مِّن دُونِ اللَّهِ أَوْثَانَاهُ مَوَدَّةً بَيْنِكُمْ فِي الحَ الدُّنْيَاج ثمَّ يَوْمَ الْقِمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَا وَيكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُم مِّن نصرين۔اس واقعہ کے بعد کون آپ پر ایمان لایا ؟ ج :۔اس پر اعجاز واقعہ کے بعد حضرت لوط جو آپ کے بھائی جاران کے بیٹے تھے آپ پرایمان لائے جس کا ذکر سورۃ العنکبوت میں ہے۔فائن له لوط ، پھر لوط 14