رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 107
1۔6 ترجمہ : ہم نے کہا کہ اسے آگ ٹھنڈی ہو جا اور ابراہیم کے لیے سلامتی کا موجب بن بجا اور انہوں نے ایک تدبیر کرنی پچا ہی نہیں ہم نے انہیں گھاٹے پانے والے بنا دیا۔معلوم ہوتا ہے کہ عین اس موقع پر بادل برسا جس نے آگ کو ٹھنڈا کر دیا اور دری دیا اوروہ ابراہیم کے لیے برود و سلام بن گئی اور حضرت ابرا ہیم اس آگ میں سے صحیح سلامت نکل آئے۔سورۃ العنکبوت میں " فاتجه الله من الناس کے مبارک کلمات آئے ہیں۔بعض نسخوں میں یہ الفاظ درج ہیں۔" تجھے کسدیوں کی آگ سے نکال لایا ؟" ر جیوش انسائیکلو پیڈیا زیر لفظ ابراهام)۔حضرت ابراہیم پر جو آگ ٹھنڈی ہوئی تھی۔آیا وہ آتش بیرم تھی یا فتنہ و فساد کی آگ تھی ؟ ج-: حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ فرماتے ہیں۔قفتنہ و فساد کی آگ تو ہرنی کے مقابل میں ہوتی ہے اور وہی ہمیشہ کوئی ایسارنگ اختیار کرتی ہے کہ اللہ تعالی ایک معجزہ نما طاقت اپنے نبی کی تائید میں اس کے بالمقابل دکھاتا ہے۔ظاہری آتش کا حضرت ابراہیم پر فرو کر دنیا خدا تعالیٰ کے آگے کوئی مشکل امر نہیں۔دالحکم۔ارجون ۷ - ۲۶۱۹ س - حضرت ابراہیم جب آگ میں ڈالے گئے تو آپ کی زبان پر کیا کلمات تھے ؟ ج :۔حضرت ابراہیمؑ کو جب آگ میں ڈالا گیا تھا تو آپ کی زبان پر حسبنا الله ونعم الوکیل ر اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہت ہی اچھا کا رہ ساز ہے) کے الفاظ تھے۔حدیث میں آتا ہے بعضرت ابن عباس سے روایت ہے جب