رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 74
۷۴ حضرت لوط علیہ السلام مہمانوں کو کیوں گھر لے آئے تھے ؟ ج :- حضرت لوط علیہ السّلام چونکہ مہمان نواز تھے۔وہ مسافروں کو گھر لے آتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ لوگ اگر باہر رہیں گے تو لوٹ لیے جائیں گے ظالمود جو یہود کی روایات اور تاریخ کی کتاب ہے اس میں یہ لکھا ہے کہ ان نیتوں کے لوگ مسافروں کو کوٹ لینے کے عادی تھے۔رجوش انسائیکلو پیڈیا زیر لفظ سدوم ) قوم لوط غیر معروف مسافروں کو شہر میں کیوں آنے نہیں دیتی تھی۔ج - سدوم والوں سے تو ہمسایوں کی عملاً لڑائی بھی رہتی تھی۔( پیدائش باب ۱۴ ) اس وجہ سے یہ لوگ غیر معروف آدمیوں کو شہر میں آنے نہیں دیتے تھے تا کہ ایسا نہ ہو کہ رات کو شہر کے دروازے کھولدیں اور دشمن ہوئے ہیں آکر حملہ کر دیں۔اس زمانہ میں شہر چھوٹے چھوٹے اور دور دور ہوتے تھے اور غیر معروف مسافروں کو لانے سے ڈر ہوتا تھا کہ کہیں ڈا کہ نہ پڑے۔خود لوط کی بستی کے لوگ ڈاکو تھے اور دوسروں کو بھی اپنا جیسا سمجھتے تھے۔حضرت لوط علیہ السلام چونکہ مہمان نواز تھے اُن کی قوم ان کو اس بات سے روکتی تھی۔( تفسیر صغیر ص۵۱۹) لویا کی قوم مہمانوں کو دیکھ کر خوشی اور غصہ میں دوڑتی ہوئی کیوں آئی؟ تا۔شہر والے خوش ہو کہ بھاگے کہ آج لوگ کو سزا دینے کا بہانہ مل گیا ہے اور وہ اب ہمارے قابو می آجائے گا اور ہمیشہ کے لئے یہ قصہ ختم ہو جائے گا۔جیسا کہ قرآن مجید میں آتا ہے۔وجاء أهل المدينة جردن۔(الحمور کوتاه) اور شہر والے خوش ہو کر بھاگتے ہوئے آئے