رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 73 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 73

۷۳ سے مراد بعض نیک لوگ تھے جو خدا سے وحی پاکہ پہلے حضرت ابراہیم کے پاس اور پھر حضرت لوط کے پاس آنے تھے۔سنی۔جب وہ ارسل حضرت لوط کے پاس آئے تو آپ نے اُن سے کیا کہا ؟ ج - حضرت لوط نے انہیں دیکھ کر کہا کہ آپ اس علاقہ میں اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔جیسا کہ سورۃ الحجر میں آتا ہے کہ قَالَ أَنكُمْ قَوْم مُنكَرُونَه وہ ان رسولوں کو دیکھ کر حضرت لوط علیہ السلام کو کیوں غم ہوا ؟ ج - حضرت لوط علیہ السّلام کو یہ رسل دیکھ کر اس وجہ سے تم پہنچا اور ان کا دل تنگی محسوس کرنے لگا کہ قوم کے لوگوں نے آپ کو غیر معروف مسافروں کو گھر میں لانے سے منع کیا ہوا تھا۔وكما أن جَاءَتْ رُسُلَنَا لُوطًا سَى بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ دَرْعاً ترجمہ :۔اور جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس آئے۔تو ان کی وجہ سے انہیں رکھ پہنچا اور ان کی وجہ سے اس کا سینہ تنگ ہو گیا۔(العنكبوت ) ف بائیل میں یہ واقعہ اس طرح درزی ہے اور حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ یہ صحیح ہے کہ جب یہ لوگ حضرت لوط علیہ السلام کی بستی کے پاس پہنچے تو حضرت لوط نے ان لوگوں کو اپنے گھر چلنے کی دعوت دی۔انہوں نے اس سے انکار کیاکہ غالباً اس سے ڈرے ہونگے کہ حضرت لوط علیہ السّلام کو تکلیف ہو گی۔مگر حضرت لوط علیہ السلام نے اصرار کیا۔انہوں نے انکار پر اصرار کیا۔اس پر حضرت لوط علیہ السّلام کو تکلیف ہوئی اور اسی تکلیف کا اس جگہ ذکر آیا ہے۔اور خدا کا اپنے نبی کی مہمان نوازی کی شان بتانا مقصود ہے نہ کہ اس کے بخل اور بد خلقی کا اظہار۔خروج باب (۱۹)