رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 75 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 75

قوم لوط مہمانوں کو دیکھ کہ فقہ میں اس لیے آگئی کہ اس نے حضرت لوط کو مہمانوں کے لانے سے منع کیا ہوا تھا جیسا کہ قرآن مجید میں آتا ہے :- ادَ لَهُ نَشْهَكَ عَنِ الْعَالَمِينَ کہ ہم نے تمہیں غیر معروف لوگوں کو لانے سے منع نہیں کیا (الحجر) اور اب پھر حضرت لوط مان لے آئے تھے غیر معروف لوگوں کو لانے سے انہیں ڈر تھا کہ کہیں ڈاکہ نہ پڑے۔خود ڈاکو تھے اور دوسروں کو اپنے جیسا کہتے تھے۔شکل:- حضرت لوط نے قوم کے لوگوں کو کیا جواب دیا ؟ ج :- حضرت لوط نے اپنی قوم سے کہا کہ میرے مہمانوں کے سامنے مجھے رسوا نہ کرو۔اور کہا کہ میری بیٹیاں یہاں موجو د ہیں۔وہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزگی کا موجب ہیں تمہیں یہ خیال کرنا چاہیئے کہ میں تمہارا دشمن نہیں ہوں اور نہ ہی دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر تمہارے شہر کو کوئی نقصان پہنچاؤں گا۔شش۔حضرت لوگا نے اپنی بیٹیوں کا کیوں حوالہ دیا ؟ ج : حضرت لوط نے اپنی بیٹیوں کو ضمانت کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ دیکھو یہ میری لڑکیاں تم میں موجود ہیں۔اگر میں تم سے دھوکہ کروں تو تم ان کے ذریعہ سے مجھے سزا دے سکتے ہو۔تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت روح کی سات بیٹیاں تھیں پانچے اسی گاؤں میں بیاہی گئیں حضرت ہوتا تے ان کو شرم دلائی کہ دیکھو سب لڑکیاں سارے ہی گھروں میں ہیں ان کی میں تالے پڑے ہیں چوں کہ انی لوگوں کو لیبیا میں داخل کروں یا حضرت لوڈ نے اپنی بقیہ دو بیٹوں کو بطور یر غمال پیش کیا اظهر لکھ کے یہ بھی معانی ہیں کہ یہ لڑکیاں میں نے تمہارے تقویٰ کے لیے پیش کی ہیں۔ان کا معاملہ سوچو کہ جب یہ تمہیں دے دیں تو میں گاؤں کے برخلاف منصوبہ کیوں کرنے لگا۔(درس القرآن فرموده حضرت خلیفة المسیح الاول ص ۲۹۳) عہد نامہ قدیم پیدائش باب نمبر ۱۹ آیت ۱۵ میں درج ہے کہ حضرت لوط کی دو بیٹیاں اس شہر میں بیا ہی ہوئی تھیں۔