انبیاء کا موعود — Page 4
میں ہم رہتے ہیں یعنی گزرہ ارض شاید اس کی سلطنت کی وسعت میں اس کو اگر دیکھا جائے تو رائی کے ہزارویں حصہ سے بھی چھوٹی ہوگی۔اتنی بڑی بادشا است کے باوجود کوئی ذرہ بھی اس کی نظر سے پوشیدہ نہیں زمین کے سینے میں دفن خزانے سمندر کی تہوں میں چھپے ہوئے ہوتی دمرجان۔آسمان کی وسعتوں میں بکھرے ہوئے ذرات سب اس کو معلوم ہیں۔اس کے اشاروں کے منتظر۔یہ بادشاہ ہمارا خدا ہے۔لیکن اس بادشاہ نے جو بادشاہوں کا بھی بادشاہ ہے۔شہنشا ہوں کا بھی شہنشاہ ہے ارادہ کیا کہ میں ظاہر ہو جاؤں اور چونکہ وہ خود تمام مادی دنیاؤں کا بادشاہ ہونے کے باوجود عالم روحانی سے زیادہ تعلق رکھتا ہے۔کیونکہ وہ ہمارا رب۔ہمارا مالک ہمارا خالق خدا ہے۔اور خدا کو دیکھا نہیں جا سکتا۔اس کی عادتوں کو دنیا والے کیسے دیکھ میں کہ ان کا خدا کیسا ہے۔تو اس بادشاہ نے یعنی خدا تعالیٰ نے چاہا کہ میرا ایک منظر ہو۔اس کو دیکھ کر دنیا کو معلوم ہو کہ یہ خدائی نشان ہے۔اس کی عظمت کا علمبردار ہے خدا تعالیٰ نے اپنے نور سے ایک نور کو پیدا کیا۔اس نور کا نام نور محمدی رکھا۔پھر اس نے یہ نور انسان کے پیکر میں ڈھالا۔پھر اس وجود کو ہماری زمین میں بھیجا۔اس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے ظاہر ہونے کا سامان کر لیا۔اس کو اب ایک آئینہ (مظہر مل گیا جس کو وہ اپنی ساری بادشاہت، دولت اور سلطنت دینا چاہتا تھا۔اسی لئے اس نے اس کا نام محمد رکھا تھا کہ جب وہ آئے تو اس کی خوبیاں دیکھ کر اس کے اخلاق سے متاثر ہو کر اس کی اتنی تعریف ہو اتنی تعریف ہو کہ دنیا اس کی تعریف سے بھر جائے اور جس طرح ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتی ہے۔اس کی عبادت کرتی ہے اس سے پیار کرتی ہے