انبیاء کا موعود — Page 29
۳۵ دوسری بات میں خدا تعالیٰ نے بتایا کہ ہر قوم، ہر قبیلہ، ہر ملک کے ایسے افراد جن کی فطرت میں نیکی تھی۔وہ پاک وجود تھے جب میرے محبوب نے ان پر نگاہ کی تو وہ اس کی توجہ سے اس کی طرف بڑھے۔جیسے لوہے کے ٹکڑے مقناطیس کی کشش سے اس سے چپک جاتے ہیں اسی طرح یہ اپنی قوموں کو قبیلوں کو ملکوں کو چھوڑ کر آپ کے گرد جمع ہو گئے۔انہوں نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا اور ایک نئی قوم کے فرد بن گئے۔یعنی امت مسلمہ کے فرد۔انہوں نے صدیوں سے باپ دادوں کے مذہب کو چھوڑ کر مسلمان کہلانا پسند کیا۔حتی کہ اپنے نام بھی بدل کر اپنے آقا کی پسند کے نام رکھ لئے۔اس طرح قو میں پرا گندہ ہو گئیں۔پراگندہ سے مراد بکھر جانا۔اور ایسے بکھرنا کہ پھر ان کو ایک جگہ جمع نہ کیا جاسکے اور یہ صرف پیارے آقا کے پرستاروں میں نمونہ نظر آتا ہے۔کہ جو آ گیا سو آ گیا۔اب جانے کے سارے راستے انہوں نے خود بند کر لئے۔گویا آپ کی نگاہ کی ایسی تاثیر منفی۔ایسا اثر تھا کہ اس کی کشش سے تو میں بکھر گئیں۔پھر بتایا گیا کہ قدیم پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے۔پرانی پہاڑیاں اس کے آگے دھنس گئیں۔پہاڑ سے مراد طاقتور - بڑا دشمن۔بڑی حکومتیں بھی پہاڑ کی طرح ہوتی ہیں پہاڑیاں چونکہ پہاڑ سے چھوٹی ہوتی ہیں۔اس لئے اس کا یہ مطلب ہوا کہ پہاڑ سے چھوٹے یعنی قبیلوں کے سردار وغیرہ جب آپ نے اپنے آپ کو خدا کی طرف سے ہونے کا دعوی کیا تو دو بڑی بڑی طاقتور حکومتیں تھیں۔قیصر اور کسریٰ کی۔ایران اور روم کی۔ایک تھے آتش پرست دوسرے عیسائی تھے اور یہ دونوں حکومتیں آپ کے خلفاء کے زمانے میں مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہو گئیں گویا بڑے بڑے پہاڑ ٹوٹ پھوٹ گئے ، اور آپ کی اپنی زندگی میں ہی عزیز کے بڑے بڑے قبیلوں کے سردار جنہوں نے مخالفت کی وہ یا تو مارے گئے یا مسلمان ہو گئے گویا پہاڑیاں بھی دھنس گئیں۔