انبیاء کا موعود

by Other Authors

Page 28 of 69

انبیاء کا موعود — Page 28

اس میں دو باتیں ہیں۔ایک تو یہ کہ آپ نے جو جنگیں کیں اور آپ کے دشمن ہلاک ہوئے۔دوسری یہ کہ آپ کی مخالفت میں جو انسان پڑے وہ اتنے بڑھے اتنے بڑھے کہ ان کی انسانیت مرگئی۔اور انسانیت مرنے کے ساتھ ساتھ وہ دنیا میں اتنے ذلیل خوار ہوئے کہ ان کی عزتیں مرگئیں۔جن کو بچانے کے لئے اپنی سرداریوں کو قائم رکھنے کیلئے وہ آپ کو مانتے نہیں تھے۔نہ صرف ان کی سرداری ختم ہوئی بلکہ ان کی اولاد بھی اُن سے دُور ہونے لگی۔ان میں عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے بیٹے عبداللہ کا واقعہ کہ اس نے جب رسول خدا کو بُرا کہا تو بیٹے نے اس کو پکڑ لیا کہ جب تک تم ان کو معزز اور اپنے آپ کو ذلیل ترین نہیں کہو گے میں تم کو نہیں چھوڑوں گا۔اور جب انسان تنہا رہ جائے تو زندہ ہو تب بھی مردوں سے بدتر ہے۔کوئی اس سے بات کرنے والا پیار کرنے والا نہیں۔ان نشانیوں سے مراد یہ ہے کہ آپ کے دشمن ہلاک ہو جائیں گے ک ہو جائیں گے یا پھر آپ کی عظمت کو ماننے پر مجبور ہوں گے۔ایک اور نشانی کہ وہ کھڑا ہوا تو اس نے زمین کو لرزا دیا۔اس نے نگاہ کی اور قوموں کو پراگندہ کر دیا۔پہلی بات سے مراد آپ کا رعب و دبدبہ ہے جو خدا نے آپ کو خاص طور پر عطا کیا تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ مجھے رعب عطا کر کے میری مدد کی ہے اور اسی وجہ سے دشمن خوفزدہ ہو جاتا ہے۔اس واقعہ پر نظر کریں کہ ابو جل جو سخت دشمن تھا اس نے کسی کی رقم دینی تھی اور وہ نہیں دے رہا تھا۔وہ شخص آپ کے پاس آیا اور کہا کہ میری مدد کریں میری رقم دلا دیں۔آپ چل پڑے۔اب لوگ حیران دیکھ رہے ہیں کہ محمد خود چل کر ابو جہل کے پاس جا رہا ہے اور اب ابو جبل کو موقع مل جائے گا اور وہ مار دے گا۔لیکن جب آپ نے کہا کہ اس کی رقم دیدو تو اس نے فوراً ادا کر دی۔یہ خدائی رعب تھا جس سے وہ لرز گیا۔