انبیاء کا موعود — Page 12
اب ہم اپنے پیارے آقا کے بابرکت دور میں دیکھیں کہ جب آپ نے مکہ سے ہجرت کی تو ٹھیک ایک سال بعد جنگ بدر ہوئی اور جب یہ جنگ ہوئی ہے اس وقت مسلمانوں کی حالت بڑی کمزور تھی۔مدینہ میں ابھی پوری طرح وہ جم نہ سکے تھے۔مکہ میں جو رشتہ دار رہ گئے تھے ان کی تکالیف کی خبریں آتی رہتی تھیں لیکن جب لڑائی ہوئی تو مسلمان ۳۱۳ تھے۔ان میں صرف چند تجربہ کار جرنیل کچھ پیچھے کچھ بوڑھے کسی کے پاس تلوار ہے تو ڈھال نہیں۔ڈھال بھی تو تلوار ٹوٹی ہوئی۔کما میں جو کچھ سلامت تو کچھ ٹوٹی ہوئیں۔تیر بھی بہت کم۔گویا جنگی نوعیت سے بالکل ناقص سامان اور وہ بھی پورا نہیں۔اب سپاہیوں کی حالت دیکھیں کہ اکثر پیدل۔چند اونٹ اور گھوڑے تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنی کمزوری پر خوف زدہ نہ تھا۔بلکہ اس ملزم سے جنگ کے لئے نکلا تھا کہ میں خُدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر لڑوں گا۔اسی عزم نے ان میں ایک ایسی قوت پیدا کردی کہ ایک مخبر نے کہا کہ " اسے مکہ والو تم مسلمانوں سے جنگ نہ کرو۔بے شک وہ تھوڑے ہیں لیکن میں نے اونٹوں پر سوئیں سوار دیکھی ہیں۔اس کا مطلب یہ تھا کہ جب کوئی خود ہی مرنے کے لئے نکلے اسے کوئی مار نہیں سکتا۔وہ دس پر بھاری ہوتا ہے۔اور اس جنگ میں ایسا ہی نمونہ دنیا نے دیکھا۔قریش ایک ہزار سے زیادہ اور تجر به کار جرنیل - عتبہ بن ربیعہ - شیبہ بن ربیعہ۔ابوجہل اور امیہ بن خلف جیسے لوگ تھے۔سامان جنگ کی کثرت۔ساتھ ہی اپنی عظمت اور شان پر غرور کہ ہم ان کمزوروں کو ایک ہی وار میں ختم کر دیں گے۔لیکن خدا کا کیا کیسے مل سکتا ہے۔لڑائی نے ثابت کر دیا۔یہ تمام جرنیل پار سے گئے۔ابو جہل کو تو کمسن معاذ بہ معوذ بچوں نے ختم کر دیا۔امیہ بن خلف اپنے