انبیاء کا موعود — Page 50
04 گویا کوہ سینا پر ظاہر ہونے والا جلوہ حضرت موسیٰ کی شکل میں تھا۔دوسرا حلوہ شعیر سے تعلق رکھتا ہے۔شعیر فلسطین کا حصہ ہے اس کا نام بہت زیادہ وقت گزرنے کی وجہ سے بگڑ گیا ہے اور حضرت یعقوب کی اولاد کی ایک شاخ بنو آشر کہلاتی تھی۔اب اگر ہم تاریخ پر غور کریں کہ فلسطین میں کونسا واقعہ ایسا ہوا جس کو خدائی جلوہ کہا جا سکے تو حضرت مسیح " فلسطین کے علاقے کنعان میں ظاہر ہوئے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک بار پھر اپنی شکل شعیر سے دنیا کو دکھائی جہاں حضرت مسیح کے معجزات ظاہر ہوئے تھے۔آخری جلوہ کوہ فاران سے ظاہر ہونا تھا۔تو فاران عرب کا علاقہ ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔اس علاقے میں پہاڑ ہیں۔یہی وہ علاقہ ہے جہاں حضرت اسمعیل نے اپنی زندگی گزار دی۔جب آپ جوان ہوئے تو خاران کے علاقے میں ہی تیر اندازی کر کے اپنے لئے شکار تلاش کیا کرتے تھے۔گویا فاران کے علاقہ سے ظاہر ہونے والا خلائی جلوہ ہمارے پیارے آقا کی شکل میں ظاہر ہوا کیونکہ آپ ہی حضرت اسمعیل کی اولاد ہیں۔پھر آپ نے ہی مکہ سے نبوت کا دعوی کیا۔اور ہجرت کر کے مدینہ میں پہلی اسلامی حکومت کی بنیاد ڈالی۔آگے جو نشانی بتائی کہ " وہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا تو فاران سے ظاہر ہونے والے جلوے نے جب انسانوں کے دلوں کو بدلا۔وہ اس کے محبوب کے گرد پروانوں کی طرح جمع ہونے لگے۔پھر جب آپ مدینہ چلے گئے تو یہ پروانے آہستہ آہستہ مدینہ میں آبسے۔جب یہ قدوس یعنی پاک وجود خدائی حکم سے مکہ کی طرف روانہ ہوا تو نہ صرف انصار اور مہاجر آپ کے ساتھ تھے بلکہ اس قدرس خدا کے محبوب قدوس نبی کے قدوس پر دانے تھے۔کہ جو بھی ان کی زندگی کو نمونہ بناکر