انبیاء کا موعود — Page 49
ہوئیں اور آپ سب سے آگے رہے۔بلکہ آپ کو جب روکا جاتا کہ اتنا آ گے تک نہ بڑھیں تو آپ فرماتے " میری سواری کی باگ چھوڑ دو۔میں جھوٹا نبی نہیں ہوں ، رجنگ حنین، گویا خدا تعالیٰ کی حفاظت مخفی۔فرشتوں کا لشکر ہر وقت آپ کے ساتھ ہوتا کیونکہ کئی بار آپ بالکل تنہا ہوئے اور دشمن آپ پر حملہ کرنا بھی چاہتا تھا مگر خود خوفزدہ ہو جاتا اور رک جاتا۔یہ سب کیا تھا۔یہ ایک سچے نبی کی نشانی ہے اور یہ نشانی میرے آقا کے حق میں پوری ہوئی کیونکہ خدا نے کہا تھا کہ " اللہ آپ کو انسانوں کے حملے سے بچائے گا۔" (سورۃ مائدہ آیت ۶۸ ) حضرت موسیٰ “ ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ خدا سینا سے اترا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑ سے ان پر جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قد دسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی۔د استثناء باب ۳۳ آیت ۳ ) اس پیشگوئی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے تین جملوے بتائے ہیں۔خدا سینا سے اترا شعیر سے ان پر طلوع کیا اور ناران کے پہاڑ سے ان پر جلوہ گر ہوا جیسا کہ آپ خود جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ تو کبھی بھی ظاہر نہیں ہوتا۔بلکہ وہ اپنے آپ کو دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے اپنے نبیوں کو بھیجا کرتا ہے۔وہی اسکی باتیں دنیا کو سناتے ہیں۔اور ان کی ذات میں خدائی معجزات ظاہر ہوتے ہیں۔جو کسی انسانی عقل - دانائی یا حکمت کے محتاج نہیں ہوتے۔یا ان میں کوئی انسانی مدد یا ہاتھ نظر نہیں آتا۔بلکہ وہ صرف ظاہر ہوتے ہیں اس لئے معجزہ کہلاتے ہیں۔ان تین جلووں میں ہم دیکھیں کہ خدا کا جلوہ کوہ سینا سے کب ظاہر ہوا۔تو توریت میں لکھا ہے کہ خدا وند کوہ سینا پہاڑ کی چوٹی پر نازل ہوا۔اور اس نے موسی کو بلایا تو موسی چڑھ گیا۔" ( خروج باب ۱۹ آیت ۲۰)