انبیاء کا موعود

by Other Authors

Page 51 of 69

انبیاء کا موعود — Page 51

۵۷ چلے تو خود بھی قدوس بن جاتا ہے۔تو جب ان دس ہزار قدوسیوں کو ابو سفیان نے دیکھا تو کہا کہ عباس "تیرے بھائی کا بیٹا دنیا کا سب سے بڑا با دستاں ہے کیونکہ وہ میں نے بڑے بڑے لشکر دیکھے ہیں مگر جو منظر اس لشکر میں نظر آتا ہے شاہ روم قیصر اور شاہ ایران کسری کے دربار میں بھی نہیں کیونکہ اس نے آپ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ یہ جاں نثار اس پانی کے قطروں کو سمیٹ لیتے تھے اپنے منہ پر ہاتھوں پر اور جسموں پر ملتے تھے۔تو اتنا بڑا عاشقوں کا پاک وجودوں کا لشکر میں نے نہیں دیکھا۔گویا مکہ کی طرف جانے والا دس ہزار قد دسیوں کا شکر جس کے ساتھ خدائی جلوہ تھا وہ پیارے آقا کا وجود تھا۔آگے مزید وضاحت کر دی کہ اس کے سیدھے ہاتھ میں ایک آتشی شریعت تھی۔آتش سے مراد آگ ہے۔یعنی ایسی شریعت جو انسان کے تمام گناہوں کو جیلا دے۔تمام خامیوں ، کمزوریوں کو خاک کر دے۔اس کے وجود کو فنا کر کے ایک ایسی تپش عطا کرے جس کی گرمی سے وہ ایک نئی زندگی پا جائے۔جو خدا کی محبت کی زندگی ہو جس میں خدا کے عشق کے سوا کچھ نہ بچے۔وہ سارا کا سارا خدا کا ہو جائے۔اور ایسی پر حکمت شریعت سوائے پیارے آقا کے کسی کو نہیں ملی۔اس شریعت پر صحیح معنوں میں عمل کر کے انسان بیچ بیچ نیا انسان بن جاتا ہے اس کو گناہ کرتے ہوئے ایک خوف ہوتا ہے۔ڈر ہوتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ اس کی کمزوریاں بھی جل جاتی ہیں اور وہ سوائے اس ڈر کے جو اس کے مولا کا ڈر ہے کسی در پر جانا گوارا نہیں کرتا کیونکہ اس کے اندر محبت کی گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔اور اسی گرمی سے وہ اپنی زندگی کی حرارت کو حاصل کر کے زندہ رہتا ہے۔یہ حالت پیارے آقا کے دور کے مسلمانوں کی ہی نہیں تھی بلکہ ہر دور میں ایسے