اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 37 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 37

حکم ماننے سے انکار نہ کریں۔یہ باتیں گناہوں سے نکالنے اور اعمال کی اصلاح کا بنیادی ذریعہ ہیں۔اپنی قوتِ ارادی کو ہمیں اُس زبر دست افسر کی طرح بنانا ہوگا جو اپنے حکم کو اپنی طاقت اور قوت اور اصولوں کے مطابق منواتا ہے اور کسی مصلحت کو اپنے اوپر غالب نہیں آنے دیتا۔ہمیں چھوٹے بڑے گناہوں کی اپنی من مانی تعریفیں بنا کر اپنے اوپر غالب آنے سے روکنا ہوگا۔پس ہمیں اپنی عملی اصلاح کے لئے ان باتوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، ان باتوں کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اپنی قوت ارادی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، قوت عملی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والے ہوں اور ہماری صلاحیتیں جو ہیں اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں طاقتیں دی ہیں وہ زنگ لگ کے ختم نہ ہو جائیں۔خلاصہ خطبہ جمعہ 17 جنوری 2014 قوت ارادی کا مطلب : حضور نے فرمایا یہ تو ہم نے دیکھ لیا کہ عملی اصلاح میں جن تین باتوں کی ضرورت ہے اُن میں سب سے پہلی قوت ارادی ہے۔یہ قوت ارادی کیا چیز ہے؟ ہم میں سے بعض کے نزدیک یہ عجیب بات ہوگی کہ قوت ارادی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ کیا چیز ہے؟ اکثر یہ کہیں گے کہ قوت ارادی کے جواپنے الفاظ ہیں، اُن سے ہی ظاہر ہے کہ یہ کسی کام کو کرنے کے مضبوط ارادے اور اُسے انجام بجالانے کی ، انجام دینے کی قوت ہے۔یہاں یہ سوال اُٹھانے کی کیا ضرورت ہے کہ یہ قوتِ ارادی کیا چیز ہے؟ تو اس بارے میں واضح ہونا چاہئے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑے احسن رنگ میں اس کا بیان فرمایا ہے کہ قوتِ ارادی کا مفہوم عمل کے لحاظ سے ہر جگہ بدل جاتا