اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 36 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 36

ہے اور اس طاقت کے آنے پر چیز اُٹھانے میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔اور یہ قوت مواز نہ بھی علم کے ذریعہ آتی ہے۔خواہ اندرونی علم ہو یا بیرونی علم ہو۔اندرونی علم سے مراد مشاہدہ اور تجربہ ہے اور بیرونی علم سے مراد باہر کی آوازیں ہیں جو کان میں پڑتی ہیں۔جیسے مثال دی گئی تھی باہر کے کسی حملے کی، باہر کے حملے سے ہوشیار کرنے کے لئے باہر کی آواز میں ہوشیار کرتی ہیں انسان کو لیکن یہ جو وزن اُٹھانے کی مثال دی گئی تھی ، اس کے لئے قوت موازنہ نے خود فیصلہ کرنا ہے کہ پہلے یہ وزن نہیں اُٹھایا گیا کہ تم اسے کم وزن سمجھتے تھے، اگر مثلاً دس کلو تھا تو پانچ کلو سمجھتے تھے اور تھوڑی طاقت لگائی تھی۔اب اسے اُٹھانے کے لئے دس کلو کی طاقت لگاؤ تو اُٹھا لو گے۔اس اصول کو اگر سامنے رکھا جائے تو جب انسان اس لائحہ عمل کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو قوت موازنہ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ مجھے اپنی جدو جہد کے لئے کس قدر طاقت کی ضرورت ہے۔بعض دفعہ مسیح علم نہ ہونے کی وجہ سے انسان اعمال کی اصلاح نہیں کر سکتا۔اور قوت موازنہ عدم علم کی وجہ سے اُسے صحیح خبر نہیں دیتی کہ اس کی عملی اصلاح کے لئے کس قدر طاقت کی ضرورت ہے۔پس قوتِ موازنہ انسان کو ہوشیار کرتی ہے اور یہی ہے جو عدم علم کی وجہ سے اُسے غافل بھی کرتی ہے۔گویا اصلاح اعمال کے لئے تین چیزوں کی مضبوطی کی ضرورت ہے۔ایک قوتِ ارادی کی مضبوطی کی ضرورت ہے، ایک علم کی زیادتی کی ضرورت ہے اور ایک قوت عملیہ میں طاقت کا پیدا کرنا، یہ بھی ضروری ہے۔یہ بھی یادر ہے کہ علم کی زیادتی در حقیقت قوت ارادی کا حصہ ہوتی ہے کیونکہ علم کی زیادتی کے ساتھ قوت ارادی بڑھتی ہے۔یا کہہ سکتے ہیں کہ عمل کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ان سب باتوں کا خلاصہ یہ بنے گا کہ عملی اصلاح کے لئے ہمیں تین چیزوں کی ضرورت ہے، پہلے قوت ارادی کی طاقت کہ وہ بڑے بڑے کام کرنے کی اہل ہو۔علم کی زیادتی کہ ہماری قوتِ ارادی اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتی رہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے اور صحیح کی تائید کرنی ہے اور اُس پر عمل کرنے کے لئے پورا زور لگانا ہے۔غفلت میں رہ کر انسان مواقع نہ گنوا دے۔تیسرے قوت عملیہ کی طاقت کہ ہمارے اعضاء ہمارے ارادے کے تابع چلیں، بد ارادوں کے نہیں، نیک ارادوں کے، اور اُس کا