اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 38 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 38

ہے۔پس یہ بنیادی بات ہمیں یاد رکھنی چاہئے اور جب یہ بات اپنے سامنے رکھیں گے تو پھر ہی اس نج پر سوچ سکتے ہیں کہ دین کے معاملے میں قوت ارادی کیا چیز ہے؟ پس واضح ہو کہ دین کے معاملے میں قوتِ ارادی ایمان کا نام ہے۔اور جب ہم اس زاویے سے دیکھتے ہیں تو پھر پتا چلتا ہے کہ عملی قوت ایمان کے بڑھنے سے بڑھتی ہے۔اگر پختہ ایمان ہو اور اللہ تعالیٰ سے تعلق ہو تو پھر انسان کے کام خود بخود ہوتے چلے جاتے ہیں۔ہر مشکل اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے آسان ہوتی چلی جاتی ہے۔عملی مشکلات اس ایمان کی وجہ سے ہوا میں اُڑ جاتی ہیں اور آسانی سے انسان اُن پر قابو پالیتا ہے اور یہ صرف ہوائی باتیں نہیں ہیں بلکہ عملاً اس کے نمونے ہم دیکھتے ہیں۔جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے پر نظر ڈالتے ہیں تو ایمان سے پہلے کی عملی حالتوں اور ایمان کے بعد کی عملی حالتوں کے ایسے حیرت انگیز نمونے نظر آتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو لوگ ایمان لائے وہ کون لوگ تھے ، ان کی عملی حالت کیا تھی ؟ تاریخ ہمیں اس بارے میں کیا بتاتی ہے؟ اُن ایمان لانے والوں میں چور بھی تھے، اُن میں ڈاکو بھی تھے ، اُن میں فاسق و فاجر بھی تھے، اُن میں ایسے بھی تھے جو ماؤں سے نکاح بھی کر لیتے تھے ، ماؤں کو ورثے میں بانٹنے والے بھی تھے۔اپنی بیٹیوں کو قتل کرنے والے بھی تھے۔اُن میں جواری بھی تھے جو ہر وقت جوا کھیلتے رہتے تھے، اُن میں شراب خور بھی تھے اور شراب کے ایسے رسیا کہ اس بارے میں اُن کا مقابلہ کوئی کر ہی نہیں سکتا۔شراب پینے کو ہی عزت سمجھتے تھے۔ایک دوسرے پر شراب پینے پر فخر کرتے تھے کہ میں نے زیادہ پی ہے یا میں زیادہ پی سکتا ہوں۔ایک شاعرا اپنی بڑائی اور فخر اس بات پر ظاہر کرتا ہے کہ میں وہ ہوں جو راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر بھی شراب پیتا ہوں۔پانی کو تو ہاتھ ہی نہیں لگاتا۔جواری اپنے جوے پر فخر کرتے ہوئے یہ کہتا تھا کہ میں وہ ہوں جو اپنا تمام مال جوے میں لٹا دیتا ہوں اور پھر مال آتا ہے تو پھر اُسے جوے میں لٹا دیتا ہوں۔شاید آج بڑے سے بڑا جواری بھی کھل کر یہ اعلان نہ کرتا ہو۔بہر حال یہ حالت اُس وقت اُن کی تھی۔پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تو اُن کی کس طرح حالت پلٹی، کیسا انقلاب اُن میں پیدا ہوا، کیسی