اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 21

ٹی وی اور دوسرے ذرائع پر بیہودہ پروگراموں کو دیکھنا، ایک دوسرے کے احترام میں کمی ، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش، یہ سب برائیاں ختم ہو جا ئیں۔محبت، پیار اور بھائی چارے کی ایسی فضا قائم ہو جو اس دنیا میں بھی جنت دکھا دے۔یہ ایسی برائیاں ہیں جو عملاً ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں۔جماعت کے اندر بھی بعض معاملات ایسے آتے رہتے ہیں، اس لئے میں نے ان کا ذکر کیا ہے۔اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہم میں پیدا ہو جائے تو خدمت دین کے اعلیٰ مقصد کو ہم فضل الہی سمجھ کر کرنے والے ہوں گے۔میری اس بات سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم خدمت دین کو تو فضل الہی سمجھ کر ہی کرتے ہیں لیکن سو فیصد عہدیداران اس پر پورا نہیں اترتے۔میرے سامنے ایسے معاملات آتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ عہدیداروں میں وسعت حوصلہ اور برداشت کی طاقت نہیں ہے۔کسی نے اونچی آواز میں کچھ کہ دیا تو اپنی انا اور عزت آڑے آ جاتی ہے۔کبھی جھوٹی غیرت کے لبادے اوڑھ لئے جاتے ہیں۔پس کسی کام کو فضل الہی سمجھ کر کرنے والا تو خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر بات برداشت کرتا ہے۔اپنی عزت کے بجائے الْعِزَّةُ لِلہ" کے الفاظ اُسے عاجزی اور انکساری پر مجبور کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں فرمایا کہ میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے احیائے ٹو کے لئے آیا ہوں (ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 490۔ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ تو ہمارے سامنے یہ نمونہ رکھتا ہے کہ آپ کا غلام بھی کہتا ہے کہ مجھ سے کبھی آپ نے سخت الفاظ نہیں کہے، کبھی سخت بات نہیں کہی۔اور پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رعب سے ایک شخص پر کپکپی طاری ہوگئی تو فرمایا۔گھبراؤ نہیں ، میں کوئی جابر بادشاہ نہیں۔میں تو ایک عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی“۔(سنن ابن ماجہ کتاب الاطعمۃ حدیث نمبر 3312) پس یہ وہ عمل ہے جس کا عملی اظہار ہر عہدیدار کو اپنی عملی زندگیوں میں کرنے کی ضرورت ہے، ہر جماعتی کارکن کو اپنی عملی زندگی میں کرنے کی ضرورت ہے۔ہراحمدی کو اپنی عملی زندگیوں میں کرنے ۲۱