اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 20
ہیں۔گزشتہ خلفاء بھی اور میں بھی خطبات وغیرہ کے ذریعہ اس نقص کو دور کرنے کی طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں اور ان ہدایات کی روشنی میں ذیلی تنظیمیں بھی اور جماعتی نظام بھی پروگرام بناتے ہیں تا کہ ہم ہر طبقے اور ہر عمر کے احمدی کو دشمن کے ان حملوں سے بچانے کی کوشش کریں۔لیکن اگر ہم میں سے ہر ایک اپنی عملی اصلاح کی طرف خود توجہ کرے، مخالفین دین کے حملوں کو ناکام بنانے کے لئے کھڑا ہو جاۓ اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ دشمنان دین کی اصلاح کا عزم لے کر کھڑا ہو اور صرف دفاع نہیں کرنا بلکہ حملہ کر کے اُن کی اصلاح بھی کرنی ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ سے اپنا ایک خاص تعلق پیدا کرے تو نہ صرف ہم دین کے دشمنوں کے حملوں کو ناکام بنارہے ہوں گے بلکہ اُن کی اصلاح کر کے اُن کی دنیا و عاقبت سنوارنے والے بھی ہوں گے۔بلکہ اس فتنہ کا خاتمہ کر رہے ہوں گے جو ہماری نئی نسلوں کو اپنے بد اثرات کے زیر اثر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔اس ذریعہ سے ہم اپنی نئی نسل کو بچانے والے ہوں گے۔ہم اپنے کمزوروں کے ایمانوں کے بھی محافظ ہوں گے اور پھر اس عملی اصلاح کی جاگ ایک سے دوسرے کو لگتی چلی جائے گی اور یہ سلسلہ تا قیامت چلے گا۔ہماری عملی اصلاح سے تبلیغ کے راستے مزید کھلتے چلے جائیں گے۔نئی ایجادات برائیاں پھیلانے کے بجائے ہر ملک اور ہر خطے میں خدا تعالیٰ کے نام کو پھیلانے کا ذریعہ بن جائیں گی۔ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ ہم حقائق سے کبھی نظریں نہیں پھیر سکتے کیونکہ ترقی کرنے والی قومیں، دنیا کی اصلاح کرنے والی قومیں، دنیا میں انقلاب لانے والی قو میں اپنی کمزوریوں پر نظر رکھتی ہیں۔اگر آنکھیں بند کر کے ہم کہہ دیں کہ سب اچھا ہے تو یہ بات ہمارے کاموں میں روک پیدا کرنے والی ہوگی۔ہمیں بہر حال حقائق پر نظر رکھنی چاہئے اور نظر رکھنی ہوگی۔ہم اس بات پر خوش نہیں ہو سکتے کہ پچاس فیصد کی اصلاح ہو گئی ہے یا اتنے فیصد کی اصلاح ہوگئی ہے بلکہ اگر ہم نے دنیا میں انقلاب لانا ہے تو سو فیصد کے ٹارگٹ رکھنے ہوں گے۔میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ اگر عملی اصلاح میں ہم سو فیصد کامیاب ہو جائیں تو ہماری لڑائیاں اور جھگڑے اور مقدمے بازیاں اور ایک دوسرے کو مالی نقصان پہنچانے کی کوششیں ، مال کی ہوس،