اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 22 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 22

کی ضرورت ہے۔پس اگر کوئی عہدہ ملتا ہے ، کوئی خدمت ملتی ہے تو ہمیشہ مسیح محمدی کے اس فرمان کو سامنے رکھنا چاہئے کہ میں تھا غریب و بے کس و گمنام و بے ہنر۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 20) پس جب ہم اپنی عملی حالتوں میں بیکسی ، غربت اور بے ہنری کے اظہار پیدا کریں گے تو پھر ہی خدمت کا بھی حق ادا کرنے والے ہوں گے۔اور شاید کہ اس سے دخل ہو دار الوصال میں کی امید رکھنے والے بھی ہوں گے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 18 ) اگر یہ نہیں تو ہم دعوے کی حد تک تو بے شک درست ہوں گے کہ زمانے کے امام کو مان لیا لیکن حقیقت میں زبانِ حال سے ہم دعوے کا مذاق اُڑا رہے ہوں گے۔کسی غیر کی دشمنی ہمیں نقصان نہیں پہنچا رہی ہو گی بلکہ خود ہمارے نفس کا دوغلا پن ہمیں رسوا کر رہا ہو گا۔اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس پر مستزاد ہے۔پس خاص طور پر ہر اُس شخص کو جس کو جماعت کی خدمت پر مامور کیا گیا ہے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے اور عام طور پر ہر احمدی کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کیونکہ حق بیعت زبانی دعووں سے اور صرف ماننے سے ادا نہیں ہوتا بلکہ عمل کی قوت جب تک روشن نہ ہو، کچھ فائدہ نہیں۔خلاصہ خطبہ جمعہ 13 دسمبر 2013 اعمال کی اصلاح میں روکاٹ کے اسباب : حضور انور نے فرما یا کسی بھی چیز کی اصلاح تبھی ہوسکتی ہے اور اصلاح کی کوشش کے مختلف ذرائع تبھی اپنائے جا سکتے ہیں جب اس کمی کی وجوہات معلوم ہوں، اسباب معلوم ہوں تا کہ اُن وجوہات کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔اگر وجہ قائم رہے تو عارضی اصلاح کے بعد پھر برائی عود ۲۲