اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 58 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 58

طرف توجہ ہوتی ہے تو وہ اگر اصلاحی پہلو ہے تو جماعت کا بڑا حصہ اصلاح کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اس کا اندازہ مجھے خطوط سے بھی ہو رہا ہے اور پھر بعض مددگار جو اللہ تعالیٰ نے خلافت کو عطا فرمائے ہوئے ہیں، وہ بھی بعض حوالے نکال کر بھیج دیتے ہیں، اپنی یادداشت کے مطابق۔چاہے حوالے یہ پہلے پڑھے ہوں لیکن نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔تو سیرت کا حوالہ جو ہے۔جب میں پڑھوں گا۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی فکر کا اظہار فرمایا ہے، یہ بھی ہمارے ایک مربی صاحب نے مجھے بھیجا کہ آپ عملی اصلاح کی اہمیت کے بارے میں بتا رہے ہیں، خطبات میں تو ایک حوالہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی پیش ہے جو اس فکر کا اظہار کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزا دے۔یہ حوالہ یوں ہے جو سیرت میں بیان کیا گیا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ : بیان کیا مجھ سے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے کہ ایک دفعہ کسی کام کے متعلق میر صاحب یعنی میر ناصر نواب صاحب کے ساتھ مولوی محمد علی صاحب کا اختلاف ہو گیا۔میر صاحب نے ناراض ہو کر اندر حضرت صاحب کو جا اطلاع دی۔کہ اس طرح اختلاف ہو گیا، غصے کا اظہار کیا۔مولوی محمد علی صاحب کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے حضرت صاحب یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کیا کہ ہم لوگ یہاں حضور کی خاطر آئے ہیں تا حضور کی خدمت میں رہ کر کوئی خدمت دین کا موقع مل سکے۔لیکن اگر حضور تک ہماری شکایتیں اس طرح پہنچیں گی تو حضور بھی انسان ہیں، ممکن ہے کہ کسی وقت حضور کے دل میں ہماری طرف سے کوئی بات پیدا ہو تو اس صورت میں ہمیں بجائے قادیان آنے کا فائدہ ہونے کے الٹا نقصان ہو جائے گا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ میر صاحب نے مجھ سے کچھ کہا تو تھا مگر میں اُس وقت میں ، میں اُس وقت اپنے فکروں میں اتنا محوتھا کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے معلوم نہیں کہ میر صاحب نے کیا کہا اور کیا نہیں کہا۔پھر آپ نے فرمایا کہ چند دن سے ایک خیال میرے دماغ میں اس زور کے ساتھ پیدا ہو رہا ہے کہ اس نے دوسری باتوں سے مجھے بالکل محو کر دیا ہے۔( یہ بڑے غور سے سننے والی بات ہے ) بس ہر وقت اُٹھتے بیٹھتے وہی