اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 57 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 57

کوشش کریں۔سالوں ہم صرف علمی بحثوں میں نہیں الجھ سکتے بلکہ اگر ہم نے جماعت کو ترقی کی طرف لے جانا ہے اور انشاء اللہ لے جانا ہے تو ہمیں کچھ اور طریق اختیار کرنے ہوں گے اور وہ یہ ہے جیسا کہ میں نے کہا، عملی اصلاح کا۔پس ہمیں اپنے اعمال اچھے کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے دیانت اور امانت کے معیاروں کو اونچا کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی آمد کے حلال ذرائع اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔بڑا ہتھیار دُعا ہے : پس جہاں مربیان کو اس طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے وہاں ہر فردِ جماعت کو اپنے جائزے لے کر اصلاح کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ سب سے بڑا ہتھیار دعا کا ہے جس کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے اور اس کے صحیح استعمال اور اس سے صحیح فائدہ اٹھانے کے لئے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ ایمان میں ترقی کرو اور میں نے جو نیک اعمال بجالانے کے لئے لائحہ عمل دیا ہے اُس پر عمل کرو۔پس یہ عمل اور دعا اور دعا اور عمل ساتھ ساتھ چلیں گے تو حقیقی اصلاح ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کے حصول کی توفیق عطا فرمائے۔ہو خلاصہ خطبہ جمعہ 7 فروری 2014 عملی اصلاح سے تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نصائح : حضور اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے عملی اصلاح کے متعلق اپنے اس بصیرت افروز خطبہ جمعہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی ایک روایت اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اقتباسات پیش فرمائے جو ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا جماعت احمدیہ پر یہ بھی فضل اور احسان ہے کہ جب خلیفہ وقت کی کسی مضمون کی