اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 59
خیال میرے سامنے رہتا ہے۔میں باہر لوگوں میں بیٹھا ہوتا ہوں اور کوئی شخص مجھ سے کوئی بات کرتا ہے تو اُس وقت بھی میرے دماغ میں وہی خیال چکر لگا رہا ہوتا ہے۔وہ شخص سمجھتا ہوگا کہ میں اُس کی بات سن رہا ہوں مگر میں اپنے اس خیال میں محو ہوتا ہوں۔جب میں گھر جاتا ہوں تو وہاں بھی وہی خیال میرے ساتھ ہوتا ہے۔غرض ان دنوں یہ خیال اس زور کے ساتھ میرے دماغ پر غلبہ پائے ہوئے ہے کہ کسی اور خیال کی گنجائش نہیں رہی۔وہ خیال کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ میرے آنے کی اصل غرض کیا ہے؟ کہ ایک ایسی جماعت تیار ہو جاوے، میرے آنے کی اصل غرض یہ ہے کہ ایک ایسی جماعت تیار ہو جاوے جو سچی مؤمن ہو اور خدا پر حقیقی ایمان لائے اور اُس کے ساتھ حقیقی تعلق رکھے اور اسلام کو اپنا شعار بنائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر کار بند ہو اور اصلاح و تقویٰ کے راستے پر چلے اور اخلاق کا اعلیٰ نمونہ قائم کرے، تا پھر ایسی جماعت کے ذریعہ دنیا ہدایت پاوے اور خدا کا منشاء پورا ہو۔پس اگر یہ غرض پوری نہیں ہوتی تو اگر دلائل و براہین سے ہم نے دشمن پر غلبہ بھی پالیا اور اس کو پوری طرح زیر بھی کر لیا، یعنی فتح کر لیا تو پھر بھی ہماری فتح کوئی فتح نہیں۔کیونکہ اگر ہماری بعثت کی اصل غرض پوری نہ ہوئی تو گویا ہمارا سارا کام رائیگاں گیا۔مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ دلائل اور براہین کی فتح کے تو نمایاں طور پر نشانات ظاہر ہورہے ہیں اور دشمن بھی اپنی کمزوری محسوس کرنے لگا ہے لیکن جو ہماری بعثت کی اصل غرض ہے، اس کے متعلق ابھی تک جماعت میں بہت کمی ہے اور بڑی توجہ کی ضرورت ہے۔پس یہ خیال ہے جو مجھے آجکل کھا رہا ہے اور یہ اس قدر غالب ہو رہا ہے کہ کسی وقت بھی مجھے نہیں چھوڑتا۔پس یہ درد ہے جس نے آپ کو بے چین کر دیا تھا، مختلف وقتوں میں آپ نے جماعت کو نصائح فرمائیں کہ احمدی کو کیسا ہونا چاہئے۔ملفوظات کی دس جلدیں علاوہ دوسری کتابوں کے، ملفوظات جو آپ کی مجالس کی رپورٹس ہوتی تھیں مختصر تفصیلی نہیں ، اس کی بھی دس جلد میں ہیں۔اور کسی جلد، ان دسوں میں سے کسی جلد کو بھی آپ لے لیں، جماعت سے توقعات اور جماعت کو نصائح عملی حالتوں کی تبدیلی کا مضمون یہ مختلف حوالوں اور مختلف زاویوں سے آپ نے بیان فرمایا ہوا ہے، ہر جگہ، ہر (۵۹)