اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 56
پس جب یہ ہوگا تو دلوں کے وساوس بھی دور ہوں گے۔اور اس طریق سے وساوس دور کرنے والوں کی تعداد، یا جن کے دلوں کے وساوس دور ہو جائیں اُن کی تعداد اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ ہر فتنہ اپنی موت آپ مرجائے گا۔جماعت میں ہر لحاظ سے عملی اصلاح کا ہر پہلو نظر آ رہا ہو گا اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا بڑا مقصد ہے۔یادر ہنا چاہئے کہ ہمیں ختم نبوت اور وفات مسیح کے متعلق مسائل جاننے کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت ہے مخالفین کے جواب دینے کے لئے لیکن عمل اور عرفان کو بھی اپنی جماعت میں رائج کرنے کے لئے ایک کوشش کی ضرورت ہے۔پس جتنی توجہ ہم نے باہر کے محاذ پر دینی ہے، اتنی بلکہ اس سے بڑھ کر اندرونی محاذ پر بھی ہمیں توجہ دینی چاہئے۔ہماری روحانی پاکیزگی، ہماری عملی اصلاح انشاء اللہ تعالی زیادہ بڑا انقلاب لانے کا باعث بنے گی، بہ نسبت اس تبلیغ کے۔علماء اور مربیان قلوب کی اصلاح کریں : حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ ارشاد یقیناً بڑا اہم ہے کہ اگر وہ یعنی علماء اور مربیان قلوب کی اصلاح کریں اور لوگوں کے دل میں عرفان اور اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کریں تو کروڑوں کروڑ لوگ احمدیت میں داخل ہونے لگ جائیں۔اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ O وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُه کہ اگر تبلیغ کے ذریعہ تم اپنے مذہب کی اشاعت کرو گے تو ایک ایک دو دو کر کے لوگ تمہاری طرف آئیں گے، لیکن اگر تم استغفار اور تسبیح کرو اور اپنے اندر سے گناہ دور کر دو تو پھر فوج در فوج لوگ آئیں گے اور تمہارے اندر شامل ہو جائیں گے۔پس وہ ہمارے عالم جو مجھے لکھتے ہیں کہ ہم غیروں کے چھکے چھڑا دیا کرتے تھے۔اس چھکے چھڑانے سے وہ مقصد حاصل نہیں ہو گا جو اپنی عملی اصلاح سے ہوگا۔اس لئے عملی اصلاح کی طرف توجہ دیں اور خلافت کے نائبین بننے کی کوشش کریں، خلیفہ وقت کے مددگاروں میں سے بننے کی ۵۶