اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 55

ہے، اور فلاں شخص کے بارے میں اُس نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں باوجود علم ہونے کے، تو اس قسم کی باتیں کرنے والے چند ایک ہی ہوتے ہیں لیکن ماحول کو خراب کرتے ہیں۔اگر مر بیان اور عہدے داران، ہر سطح کے عہدے داران ، پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں، ہر تنظیم کے اور جماعتی عہدیداران اپنی اس ذمہ داری کو بھی سمجھیں تو بعض دلوں میں جو شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں، کبھی پیدا نہ ہوں اور خاص طور پر مربیان کا یہ کام ہے کہ بتائیں کہ تمام برکتیں نظام میں ہیں۔اللہ تعالیٰ تو جب کسی قوم پر لعنت ڈالنا چاہتا ہے تو نظام کو اٹھا لیتا ہے۔پس جب یہ باتیں ہر ایک کے علم میں آ جائیں گی تو بعض لوگ جن کو ٹھو کر لگتی ہے وہ ٹھوکر کھانے سے بچ جائیں گے۔ایسا طبقہ ہمیشہ رہتا ہے چاہے وہ چند ایک ہی ہوں جو اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے۔اور ادھر اُدھر بیٹھ کر باتیں کرتارہتا ہے کہ خلیفہ خدا تو نہیں ہوتا، وہ بھی غلطی کر سکتا ہے، جیسا کہ عام آدمی غلطی کر سکتا ہے، ٹھیک ہے، لیکن حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اس کا بڑا اچھا جواب دیا ہے۔اگر خلافت برحق ہے یہ جواب جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے دیا، ہر وقت اور ہر دور کے لئے ہے۔اگر خلافت پر ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ انعام دیا گیا ہے، تو آپ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ خلفاء جن امور کا فیصلہ کیا کرتے ہیں ہم ان امور کو دنیا میں قائم کر کے رہتے ہیں، وہ فرماتا ہے وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ یعنی وہ دین اور وہ اصول جو خلفاء دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں، ہم اپنی ذات ہی کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم اُسے دنیا میں قائم کر کے رہیں گے۔پس یہ باتیں جماعت کے ہر فرد کے دل میں راسخ ہونی چاہئیں اور یہ مربیان اور اہلِ علم کا کام ہے کہ اسے ہر ایک کے دل میں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔پس اس ذمہ داری کو سمجھیں ، اس بات کے پیچھے پڑ جائیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکات اور آپ کے فیوض لوگوں پر ظاہر کرنے ہیں۔خدا تعالیٰ کے زندہ نشانات کا بار بار تذکرہ کرنا ہے ، لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کے ذرائع کیا ہیں؟ اور خلیفہ وقت کی ہر صورت میں اطاعت اور نظام کی فرمانبرداری کی کیا اہمیت ہے۔۵۵