اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 54 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 54

نشانات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ظاہر ہورہے ہیں، اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت جو ہر دم ہمارے ساتھ ہے، اُس سے یہ سچائی ثابت کریں۔لیکن بات وہی ہے کہ اپنی حالتوں کو بھی خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق بنائیں۔جماعت کی عملی قوت کو مضبوط کریں۔جماعت کے بچوں، عورتوں اور مردوں کے سامنے یہ باتیں پیش کریں اور بار بار پیش کریں جیسا کہ میں نے کہا، انہیں بتائیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ کس طرح خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہوا، انہیں سمجھا ئیں کہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے کیا ذرائع ہیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت کس طرح حاصل ہوسکتی ہے؟ پھر دیکھیں کہ جو نو جوان دنیا داری کے معاملات میں نقل کی طرف رجحان رکھتے ہیں، خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے والے بنیں گے۔پھر صرف چند مربیان یا علماء غیر از جماعت مولویوں کے چھکے چھڑانے والے نہیں ہوں گے بلکہ یہ نمونے جو ہمارے نوجوان مرد، عورتیں، بچے قائم کر رہے ہوں گے یہ دنیا کو اپنی طرف کھینچنے والے ہوں گے۔پس اپنی عملی حالتوں کی درستی کی طرف توجہ کی سب سے پہلے ضرورت ہے۔اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جوڑ کر پھر خلافت سے کامل اطاعت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔یہی چیز ہے جو جماعت میں مضبوطی اور روحانیت میں ترقی کا باعث بنے گی۔خلافت کی پہچان اور اُس کا صحیح علم اور ادراک اس طرح جماعت میں پیدا ہو جانا چاہئے کہ خلیفہ وقت کے ہر فیصلے کو بخوشی قبول کرنے والے ہوں اور کسی قسم کی روک دل میں پیدا نہ ہو، کسی بات کوسن کر انقباض نہ ہو۔خلافت کا صحیح فہم و ادراک پیدا کرنا بھی مربیان کے کاموں میں سے اہم کام ہے۔اور پھر عہدیداران کا کام ہے کہ وہ بھی اس طرف توجہ دیں۔ایسی مثالیں ابھی بعض سامنے آ جاتی ہیں کہ کہتے ہیں کہ خلیفہ وقت نے یہ غلط کام کیا اور یہ غلط فیصلہ کیا یا فلاں فیصلے کو اس طرح ہونا چاہئے تھا، بعض قضاء کے فیصلوں پر اعتراض ہوتے رہتے ہیں۔یا فلاں شخص کو فلاں کام پر کیوں لگایا گیا؟ اس کی جگہ تو فلاں شخص ہونا چاہئے تھا۔خلیفہ وقت کی فلاں فلاں کے بارے میں تو بڑی معلومات ہیں علم ۵۴