اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 53 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 53

پر کرتے تھے کہ ایک کے بعد دوسرے حملے نے اُنہیں زچ کر دیا تھا۔ٹھیک ہے یہ اچھی بات ہے کہ کرتے تھے، مخالفین کے جواب دینے چاہئیں، بلکہ اُن کی باتوں کے رڈ ہی دلائل کے ساتھ اُن پر پھینکنے چاہئیں لیکن یہ بات اس سے بھی زیادہ اہم ہے اور ضروری ہے کہ ہمارے معلمین اور مبلغین اور مربیان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو سمجھتے ہوئے اپنی روحانی حالت میں بھی وہ ترقی کرتے کہ ہر ایک کا وجود خود ایک نشان بن جاتا۔اور اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔اور اسی نمونے کو دیکھ کر لوگ جماعت میں داخل ہوں۔لیکن یہاں مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ معیار پیدا نہیں ہوا۔اسی لئے ہندوستان میں بہت سے معلمین کو فارغ کرنا پڑا۔لگتا تھا کہ بعض پر دنیا داری غالب آ گئی ہے۔پس یہ خط لکھنے والے بھی اور ہم میں سے ہر ایک اپنے جائزے لے کہ اُس کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ معلمین، مبلغین یہ دیکھیں کہ انہوں نے دلوں میں ایمان پیدا کرنے کی کتنی کوشش کی ہے۔خشک دلائل سے لوگوں کے دلوں پر اثر ڈالنے اور غیر احمدی مولویوں کو دوڑانے پر ہی ہمیں اکتفا نہیں کر لینا چاہئے اور اسی پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے بلکہ ہمارے پاس جو خدا تعالیٰ کے زندہ نشانات اور معجزات ہیں، اُس سے خدا تعالیٰ کی ہستی دنیا کو دکھائیں۔اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہے، اُس سے لوگوں کے دلوں کو قائل کریں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مثال دی ہے کہ اگر سورج چڑھا ہو اور کوئی کہے کہ تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ سورج چڑھا ہوا ہے تو دوسرا اُسے سورج چڑھنے کی دلیلیں دینی شروع کر دے کہ اتنے بجے وقت ہوتا ہے سورج نکلنے کا ، اتنے بجے غروب ہوتا ہے اور سائنس یہ کہتی ہے۔پس یہ دلیلیں دینے والا بھی احمق ہی ہوگا جو دلیلیں دینے بیٹھ گیا، اُس کا سادہ علاج تو یہ تھا کہ سورج کی دلیل پوچھنے والے کی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر اُس کا منہ اونچا کرتا اور کہتا کہ وہ سورج ہے، دیکھ لو۔دلیلیں دینے کی ضرورت نہیں۔تمہاری بیوقوفانہ باتوں کا جواب اس وقت سورج کا وجود ہے۔پس واعظین کا یہ کام ہے کہ سورج کے وجود کی دلیلیں دینے والے احمق بننے کے بجائے تازہ ۵۳