اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 40
سے ڈر کر ہی برائیاں نہیں چھوڑ نیں یا اُن سے بچنا اس لئے نہیں کہ ماں باپ کا خوف ہے اُن میں یا معاشرے کا خوف ہے۔یہ سوچ نہیں ہونی چاہئے بلکہ سوچ یہ ہونی چاہئے ، ہم نے برائی اس لئے چھوڑنی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا۔یا اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے منع فرمایا ہے تو ہم نے اس سے رکنا ہے۔مسلمان ملکوں میں اگر شراب کھلے عام نہیں ملتی۔پاکستان وغیرہ میں تو مجھے پتا ہے، قانون اب اس کی اجازت نہیں دیتا تو چھپ کر ایسی قسم کی شراب بنائی جاتی ہے جو دیسی قسم کی شراب ہے اور پھر پیتے بھی ہیں، اور اس کا نشہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔امیر طبقہ اور اور بہانوں سے اعلیٰ قسم کی شراب کا بھی انتظام کر لیتا ہے۔پھر میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ سٹوڈنٹ، یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ کو میں نے دیکھا ہے کہ ایسے سیرپ یا دوائیاں جن میں الکوحل ملی ہوتی ہے، خاص طور پر کھانسی کے سیرپ، اُس کو نشے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور پھر اس کا نقصان بھی ہوتا ہے، کیونکہ اس میں دوسری دوائیاں بھی ملی ہوتی ہیں۔پس ایسے معاشرے میں بچنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے، اپنی قوتِ ارادی سے ان برائیوں سے بچنے کی ضرورت ہے۔آجکل یہاں یورپین ملکوں میں بھی علاوہ ایسے نشوں کے جو زیادہ خطر ناک ہیں ، شیشے کے نام سے بھی ریسٹورانوں میں، خاص طور پر مسلمان ریسٹورانوں میں نشہ ملتا ہے۔اسی طرح امریکہ میں حقے کے نام سے نشہ کیا جاتا ہے۔وہ خاص قسم کا حقہ ہے، یا کیا کہتے ہیں اُس کو؟ اور یہاں ہمارے مجھے پتا لگا ہے بعض نوجوان لڑکے اور لڑکیاں یہ شیشہ استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس میں نشہ نہیں ہے یا کبھی کبھی استعمال کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔کوئی حرج نہیں ہے۔یا درکھیں کہ کبھی کبھی کے استعمال سے ہی انسان بڑے نشوں میں ملوث ہو جاتا ہے اور پھر اس سے پیچھے ہٹنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔پس ابھی سے اپنی قوت ارادی سے کام لینا ہوگا اور اس برائی سے چھٹکارا پانا ہوگا۔اور اس کے لئے اپنے ایمان کو دیکھیں۔ایمان کی گرمی ہی قوتِ ارادی پیدا کر سکتی ہے جو فوری طور پر بڑے فیصلے کرواتی ہے جیسا کہ صحابہ کے نمونے میں ہم نے دیکھا۔