اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 39
قوت ارادی اس ایمان نے اُن میں پیدا کی؟ اس کے واقعات بھی تاریخ ہمیں بتاتی ہے۔تو حیرت ہوتی ہے۔کس طرح اتنی جلدی اتنا عظیم انقلاب اُن میں پیدا ہو گیا؟ ایمان لاتے ہی اُنہوں نے فیصلہ کر لیا کہ اب دین کی تعلیم پر عمل کے لئے ہم نے اپنے دل کو قوی اور مضبوط کرنا ہے۔انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ خدا تعالیٰ کے احکامات کے خلاف اب ہم نے کوئی قدم نہیں اٹھانا۔انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر حکم ہمارے لئے حرف آخر ہے۔اُن کا یہ فیصلہ اتنا مضبوط ، اتنا پختہ اور اتنے زور کے ساتھ تھا کہ اُن کے اعمال کی کمزوریاں اُس فیصلے کے آگے ایک لمحے کے لئے بھی نہ ٹھہر سکیں۔اُن کے ایسے حالات بدلے کہ وہ خطرناک سے خطرناک مصیبت اپنے پر وارد کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور نہ صرف تیار ہوئے بلکہ اس قوت ارادی نے جو انہوں نے اپنے اندر پیدا کی ، اُن کے اعمال کی کمزوری کو اس طرح پرے پھینک دیا اور اُن سے دور کر دیا ، جس طرح ایک تیز سیلاب کا ریلا ایک تنکے کو بہا کر لے جاتا ہے۔پس اگر اس قسم کی قوت ارادی پیدا ہو جائے اور اس حد تک ایمان پیدا ہو جائے تو پھر لوگوں کے اصلاح اعمال کے لئے اور طریق اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔چودہ سو سال پہلے اصلاح کا عمل قوتِ ایمان کی وجہ سے جو انقلاب لایا، اُس کی مثال اس وسیع پیمانے پر دنیا میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔کس طرح حیرت انگیز طور پر دنیا میں یہ انقلاب بر پا ہوا۔لیکن اس سے ملتی جلتی کئی مثالیں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے ماننے والوں میں ہمیں نظر آتی ہیں۔تمباکو نوشی گوحرام تو نہیں، بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو برا فرمایا ، بلکہ ایک جگہ یہ بھی فرمایا کہ شاید یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوتی تو منع فرما دیتے۔لیکن ایک برائی بہر حال ہے اور اس میں نشہ بھی ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک سفر کے دوران جب حقے سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو آپ کے صحابہ نے جو حقہ پینے کے عادی تھے، اپنے حقے کو توڑ دیا اور پھر تمباکو نوشی کے قریب بھی نہیں پھٹکے۔پس یہ نمونے ہیں جو ہمیں قائم کرنے کی ضرورت ہے۔کسی قانون سے ڈر کر یا اپنے معاشرے