اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 41

قوت علمی کا مطلب : اس کے ساتھ ہی جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ قوت علمی ہے، اگر قوت علمی کسی میں ہو تو عمل کی جو کمزوری علم کی وجہ سے ہوتی ہے، وہ دور ہو جاتی ہے۔جس کے لئے عام دنیاوی مثال یہ ہے کہ بچپن کی بعض عادتیں بچوں میں ہوتی ہیں۔کسی کو مٹی کھانے کی عادت ہے تو اس کے نقصان کا جب علم ہوتا ہے تو پھر وہ کوشش کر کے اس کو روکتا ہے، اپنے آپ کو روکتا ہے۔اور بہت سی عادتیں ہیں۔مثلاً ایک بچی مجھے پتا ہے کہ یہ عادت تھی کہ رات کو اپنے بال نوچتی تھی سوتے ہوئے، تو زخمی کر لیتی تھی۔لیکن اب بڑی ہو رہی ہے آہستہ آہستہ تو اُس کو احساس بھی ہو رہا ہے اور کوشش کر کے اس عادت سے چھٹکارا پا رہی ہے۔تو بہر حال یہ عادت علم ہونے سے ختم ہو جاتی ہے۔پس اسی طرح جس کو کچھ خدا کا خوف ہے، اگر اُسے عمل کے گناہ اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا صحیح احساس دلا دیا جائے اور اسے اس بات پر مضبوط کر دیا جائے کہ گناہ سے اللہ تعالیٰ کس طرح ناراض ہوتا ہے تو پھر وہ گناہ سے بچ جاتا ہے۔قوت عملی کا مطلب : پھر تیسری چیز جس سے عملی کمزوری سرزد ہوتی ہے وہ عملی قوت کا فقدان ہے۔بہر حال یہ تینوں قسم کے لوگ دنیا میں موجود ہیں اور دنیا میں یہ بیماریاں بھی موجود ہیں۔بعض ایسے لوگ ہیں جن کے عمل کی کمزوری کی وجہ ایمان میں کامل نہ ہونا ہے۔بعض لوگ ایسے ہیں جن میں عمل کی کمزوری اس وجہ سے ہے کہ اُن کا علم کامل نہیں ہے، کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایمان اور علم رکھتے ہیں لیکن دوسرے ذرائع سے اُن پر ایسا زنگ لگ جاتا ہے کہ دونوں علاج اُن کے لئے کافی نہیں ہوتے اور بیرونی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔کسی سہارے کی ضرورت ہے۔جیسے کسی کی ہڈی ٹوٹ جائے تو بعض دفعہ بعض پلستر لگا کر باہر سہارا دیا جاتا ہے، ہڈی جوڑنے کے لئے ، بعض دفعہ آپریشن کر کے پلیٹیں ڈالی جاتی ہیں تا کہ ہڈی مضبوط ہو جائے اور پھر آہستہ آہستہ بڑی جڑ جاتی ہے اور وہ سہارے ۴۱