اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 25 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 25

قادر نہ ہو۔بہت مشکل پیش آتی ہے اور وہ انسان کی عادت میں داخل ہوگئی ہوں اور بڑی نیکیاں وہی ہیں جن کو کرنا انسان کو مشکل لگتا ہو۔یعنی بہت سی بدیاں ایک کے لئے بڑی ہیں اور دوسرے کے لئے چھوٹی اور بہت سی نیکیاں ایک کے لئے بڑی نیکی ہیں اور دوسرے کے لئے چھوٹی۔پہلا سب پس اگر ہم نے اپنی عملی اصلاح کرنی ہے تو سب سے پہلے اس خیال کو دل سے نکالنا ہو گا کہ مثلاً زنا ایک بڑا گناہ ہے قبل ایک بڑا گناہ ہے، چوری ایک بڑا گناہ ہے، غیبت ایک بڑا گناہ ہے اور ان کے علاوہ جتنے گناہ ہیں وہ چھوٹے گناہ ہیں۔پس اس خیال کو دل سے نکالنا ضروری ہے اور اس خیال کو بھی دل سے نکالنا ہوگا کہ روزہ بڑی نیکی ہے، زکوۃ بڑی نیکی ہے، حج بڑی نیکی ہے اور اس کے علاوہ جتنی نیکیاں ہیں، چھوٹی نیکیاں ہیں جس طرح عام مسلمانوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے۔اگر یہ خیال دل سے نہیں نکالتے تو ہمارا عملی حصہ کمزور رہے گا۔عملی حصے کی مضبوطی اُس وقت آئے گی جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی اس بات کو سامنے رکھیں گے کہ قرآنِ کریم کے سات سو حکموں پر عمل نہ کرنے والا نجات کا دروازہ اپنے اوپر بند کرتا ہے۔پس ہمیں غیروں کی طرح یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ بعض نیکیاں بڑی ہیں اور بعض نیکیاں چھوٹی ہیں۔اور اس معاملے میں اُن لوگوں کی جو دوسرے مسلمان ہیں، غکو کی یہ حالت ہے کہ مثلاً وہ سمجھتے ہیں کہ روزہ سب سے بڑی نیکی ہے لیکن نماز با جماعت کی کوئی اہمیت نہیں ہے، لیکن روزہ بہت ضروری ہے، اس پر بڑی پابندی ہوتی ہے۔جس پر زکوۃ فرض ہے ، وہ زکوۃ بچانے کی کوشش تو کرے گا لیکن روزہ ضرور رکھے گا۔کیونکہ اگر روزہ نہ رکھے تو اُس کے نزدیک یہ بہت بڑا جرم ہے۔پس اگر ہم نے اپنی اصلاح کرنی ہے تو ہمیشہ یہ بات سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہر نیکی کو اختیار کرنے اور ہر بدی سے بچنے کی کوشش کرنی ہوگی۔دور پھر اعمال کی اصلاح میں روکاوٹ کی جو دوسری وجہ ہے، وہ ماحول ہے یا نقل کا ماڈہ ہے۔اللہ (۲۵)