اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 24
ہو جائے کہ یہ معمولی گناہ ہے تو پھر بیماری کا پیج ضائع نہیں ہوتا اور حالات کے مطابق یہ چھوٹے گناہ بھی بڑے گناہ بن جاتے ہیں۔پس اس لحاظ سے ہم سب کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو ہر چھوٹے گناہ کی بھی اور بڑے گناہ کی بھی باز پرس اور سزا رکھی ہے۔دیکھتے ہیں کہ غلط کاموں پر روپیہ لگانا ایک برائی ہے جس سے منع فرمایا گیا ہے۔آجکل تو جوئے کی مشینیں ہیں، مختلف قسم کے جوئے کی قسمیں ہیں۔کئی لوگ ہیں جو لاٹریوں کے بھی بڑے رسیا ہیں۔جوئے کی مشینوں پر جاتے ہیں اور ویسے بھی جوا کھیلتے ہیں۔لیکن عام زندگی میں جھوٹ نہیں بولتے۔عام آدمی کے ساتھ ظلم نہیں کرتے قتل نہیں کرتے۔اس لئے کہ یہ لوگ ان برائیوں کو بڑا گناہ سمجھتے ہیں لیکن جوئے اور غلط کاموں میں پیسے لٹانے اور ضائع کرنے کو یہ برا نہیں سمجھتے۔تو ایسے شخص کے لئے غلط رنگ میں رقم لٹانا بڑا گناہ ہے۔کیونکہ باقی گناہ تو وہ پہلے ہی گناہ سمجھتا ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک عورت اپنے لباس کو حیا دار نہیں رکھتی۔باہر نکلتے ہوئے پردے کا خیال نہیں رکھتی۔باوجود احمدی مسلمان ہونے کے اور کہلانے کے ننگے سر، بغیر حجاب کے، بغیر سکارف کے یا چادر کے پھرتی ہے۔لباس چست اور جسم کی نمائش کرنے والا ہے۔لیکن مالی قربانی کے لئے کہو، کسی چیریٹی میں چندے کے لئے کہو تو کھلا دل ہے، یا جھوٹ سے اُسے نفرت ہے اور برداشت نہیں کرتی کہ اُس کے سامنے کوئی جھوٹ بولے تو اس کے لئے بڑی نیکی چندوں میں بڑھنا یا بڑی نیکی جھوٹ سے نفرت نہیں بلکہ بڑی نیکی قرآن کریم کے اس حکم پر عمل کرنا ہے کہ اپنے لباس کو حیا دار بناؤ اور پردے کا خیال رکھو۔جس کو وہ چھوٹی نیکی سمجھ کر توجہ نہیں کر رہی یہی ایک وقت میں پھر اُس کو بڑی برائی کی طرف بھی دھکیل دے گی۔غرض کہ ہر نیکی اور گناہ کا معیار ہر شخص کی حالت کے مطابق ہے اور مختلف حالتوں میں مختلف لوگوں کے عمل نیکی اور بدی کی تعریف اُس کے لئے بدلا دیتے ہیں۔پس جب تک یہ خیال رہے کہ فلاں بدی بڑی ہے اور فلاں چھوٹی ہے اور فلاں نیکی بڑی ہے اور فلاں نیکی چھوٹی ہے، اُس وقت تک انسان نہ بدیوں سے بچ سکتا ہے نہ نیکیوں کی توفیق پاسکتا ہے۔ہمیشہ ہمارے سامنے یہ بات رہنی چاہئے کہ بڑی بدیاں وہی ہیں جن کے چھوڑنے پر انسان (۲۴)