اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 23
کرے گی ، واپس آئے گی۔اس پہلو سے جب میں نے غور کیا اور مزید پڑھا تو حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک تجزیہ مجھے ملا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طریق تحریر اور تقریر کی یہ خوبی ہے کہ ممکنہ سوال اُٹھا کر اُن کا حل بھی مثالوں سے بتاتے ہیں۔قرآن، حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کی روشنی میں جس طرح آپ مسئلے کا حل بتاتے ہیں، اس طرح اور کہیں دیکھنے میں نہیں آتا۔بہر حال اس وجہ سے میں نے سوچا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خطبات سے ہی استفادہ کرتے ہوئے اُس کی روشنی میں ان وجوہات کو بھی آپ کے سامنے بیان کروں۔اعمال کی اصلاح کے بارے میں جو چیز میں روک بنتی ہیں یا اثر انداز ہوتی ہیں، اُن میں سے سب سے پہلی چیز لوگوں کا یہ احساس ہے کہ کوئی گناہ بڑا ہے اور کوئی گناہ چھوٹا۔یعنی لوگوں نے خود ہی یا بعض علماء کی باتوں میں آکر اُن کے زیر اثر یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ بعض گناہ چھوٹے ہیں اور بعض گناہ بڑے ہیں اور یہی بات ہے جو عملی اصلاح میں روک بنتی ہے۔اس سے انسان میں گناہ کرنے کی دلیری پیدا ہوتی ہے، جرات پیدا ہوتی ہے۔برائیوں اور گناہوں کی اہمیت نہیں رہتی۔یہ سمجھ لیتے ہیں کہ چھوٹا گناہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے یا اس کی سزا اتنی نہیں ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 339 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 مئی 1936ء) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اگر کوئی بیمار ہو جاوے خواہ اُس کی بیماری چھوٹی ہو یا بڑی، اگر اس بیماری کے لئے دوانہ کی جاوے اور علاج کے لئے دُکھ نہ اُٹھایا جاوے، بیمار اچھا نہیں ہو سکتا۔ایک سیاہ داغ منہ پر نکل کر ایک بڑا فکر پیدا کر دیتا ہے کہ کہیں یہ داغ بڑھتا بڑھتا گل منہ کو کالا نہ کر دے۔اسی طرح معصیت کا بھی ایک سیاہ داغ دل پر ہوتا ہے۔صغائر یعنی چھوٹے گناہ سہل انگاری سے کبائر، یعنی بڑے گناہ ہو جاتے ہیں۔صغائر وہی داغ چھوٹا ہے جو بڑھ کر آخر کارگل منہ کو سیاہ کر دیتا ہے“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 7۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پس یہ بات ہمیشہ یادرکھنی چاہئے کہ کسی گناہ کو بھی انسان چھوٹا نہ سمجھے۔کیونکہ جب یہ سوچ پیدا ۲۳