اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 19
یا زیادہ سے زیادہ قریبی ہمسائے اُس سے متاثر ہو جاتے تھے۔لیکن آج سفروں کی سہولتیں، ٹی وی، انٹرنیٹ اور متفرق میڈیا نے ہر فردی اور مقامی برائی کو بین الاقوامی برائی بنا دیا ہے۔انٹرنیٹ کے ذریعہ ہزاروں میلوں کے فاصلے پر رابطے کر کے بے حیائیاں اور برائیاں پھیلائی جاتی ہیں۔نوجوان لڑکیوں کو ورغلا کر اُن کی عملی حالتوں کی کمزوری تو ایک طرف رہی ، دین سے بھی دور ہٹا دیا جاتا ہے۔گزشتہ دنوں میرے علم میں ایک بات آئی کہ پاکستان میں اور بعض ملکوں میں، وہاں کی یہ خبریں ہیں کہ لڑکیوں کو شادیوں کا جھانسہ دے کر پھر بالکل بازاری بنادیا جاتا ہے۔وقتی طور پر شادیاں کی جاتی ہیں پھر طوائف بن جاتی ہیں اور یہ گروہ بین الاقوامی ہیں جو یہ حرکتیں کر رہے ہیں۔یقینا یہ خوفناک حالت رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہے۔اسی طرح نوجوان لڑکوں کو مختلف طریقوں سے نہ صرف عملی بلکہ اعتقادی طور پر بھی بالکل مفلوج کر دیا جاتا ہے۔پس جہاں یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ان غلاظتوں سے محفوظ رکھے، وہاں ہر احمدی کو بھی اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتے ہوئے ان غلاظتوں سے بچنے کے لئے ایک جہاد کی ضرورت ہے۔زمانے کی ایجادات اور سہولتوں سے فائدہ اُٹھانا منع نہیں ہے لیکن ایک احمدی کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس نے زمانے کی سہولتوں سے فائدہ اُٹھا کر تکمیل اشاعت ہدایت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کامددگار بننا ہے نہ کہ بے حیائی، بے دینی اور بے اعتقادی کے زیر اثر آ کر اپنے آپ کو دشمن کے حوالے کرنا ہے۔پس ہر احمدی کے لئے یہ سوچنے اور غور کرنے کا مقام ہے۔ہمارے بڑوں کو بھی اپنے نمونے قائم کرنے ہوں گے تا کہ اگلی نسلیں دنیا کے اس فساد اور حملوں سے محفوظ رہیں اور نو جوانوں کو بھی بھر پور کوشش اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اپنے آپ کو دشمن کے حملوں سے بچانا ہوگا۔وہ دشمن جو غیر محسوس طریق پر حملے کر رہا ہے ، وہ دشمن جو تفریح اور وقت گزاری کے نام پر ہمارے گھروں میں گھس گھس کر ہماری جماعت کے نوجوانوں اور کمزور طبع لوگوں کو متاثر بھی کر رہا ہے۔اُن میں نقص پیدا کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔بیشک جیسا کہ میں نے کہا، خلفائے احمدیت عملی حالتوں کی بہتری کی طرف توجہ دلاتے رہے ۱۹